| ایمان کی پہچان |
تک ثابت نہ ہو کہ اس نے کوئی پہلوئے کفر ہی مُراد لیا ، نہ کہ ایک مَلعُون کلام، تَکْذیْب ِ خدا(۱) یا تنقیص ِ شان سید انبیاء علیہ و علیہم الصلوٰۃ والثناء(۲) میں صاف ،صَرِیح، ناقابل تاویل و توجیہ ہو(۳)،اورپھر بھی حکمِ کفر نہ ہو ، اب تو اسے کفر نہ کہنا ، کفر کو اسلام ماننا ہوگا، اور جو کفر کو اسلام مانے خود کَافِر ہے۔اِسی شفاء و بزازیہ درروبحر ونہر و فتاویٰ خیر یہ ودُرِّ مُخْتَارِ ودُرِّ مُخْتَارِ وغیرہ کُتب مْعْتَمدَہ (۴)سے سن چکے کہ جو شخص حُضُور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تنقیص ِ شان کرے,کَافِرہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کَافِر ہے مگر یہود مَنش لوگ(۵) فقہائے کرام پر افتِرائے سَخِیف (۶)اور ان کے کلام میں تبدیل و تحریف (۷) کرتے ہیں ۔
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪ (8)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
قَدْ ذَکَرُوْ ا اَنَّ الْمَسْاَلَۃَ الْمُتَعَلِّقَۃَ بِالْکُفْرِ اِذَاکَانَ لَھَا تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ اِحْتِمَالًا لِلْکُفْرِوَ اِحْتمَالٌ وَاحِدٌ فِی نَفْیِہٖ فَالْاَوْلٰی لِلْمُفْتِی وَالْقَاضِی اَنْ یَعْمَلَ بِالْاِحْتِمَالِ النَّافِی۔(۹)
(۱)اﷲعزّوجل کو جھوٹا کہنے میں ۔(۲) یعنی انبیاء کرام کے سردار علیہ و علیھم الصلوۃ الثناء کی مبارک شان گھٹانے میں (۳) اس قابل نہیں کہ اسکے کلام کا کوئی اور اسلامی مطلب شمار کرسکیں ِجسکا کوئی اسلامی معنی ہی نہ ہو۔ (۴) ایسی کتابیں جن پر اعتماد بھروسہ کیاجاتاہے۔(۵) ایسے لوگ جنکا مزاج یہود یوں کی طرح ہے کہ جس طرح یہودی کلام میں ردوبدل کرتے تھے یہ بھی کرتے ہے ۔(۶)ناقص و کمزور جھوٹا الزام۔(۷)ردوبدل ۔ کمی بیشی ۔(۸)ترجمئہ کَنزالایمان :''اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کرو ٹ پر پلٹاکھائیں گے ''(پارہ۱۹ شُعرآء ۲۲۷)(۹)''یعنی علماء کرام رحمتہ اﷲعلیھم نے کفر کے متعلق ایک مسئلے کا تذکرہ فرمایاہےکہ جس میں ۹۹معانی کفر کے ہوں او ر ایک معنی اسلام کا ہوتو مفتی اور =