Brailvi Books

ایمان کی پہچان
118 - 162
سہی (۱)مگر جو علوم غیب اسے الہام سے ملے ان میں ظاہرًا باطنًاکسی طرح کسی رَسُول اِنس و ملک کی وَسَاطَت وَتَبْعِیّت نہیں(۲) اﷲتعالیٰ عزّوجلّ نے بلاواسطہ رَسُول اصا لۃً (۳) اسے غیوب پر مطلع کیا ، یہ بھی کفر ہے:
وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیۡبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۪
ترجمہ کَنزالایما ن اور اﷲکی شان یہ نہیں کہ اے لوگو تمہیں غیب کاعلم دیدے ہاں اﷲچن لیتا ہے اپنے رَسُولوں سے جسے چاہے۔ (آلِ عمرا ن ۱۷۹ ، پارہ ۴)
عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ
ترجمہ کنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رَسُولوں کے ۔ (پارہ۲۹الجّن ۲۶)

( ۲۱) عمروکو رَسُول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے واسطہ سے سمعاًیاعینا ً یا الہاماً بعض غیوب کاعلم قطعی اﷲعَزَّوَجلّ نے دیا یا دیتا ہے ، یہ خالص اسلام ہے تو محققین فقہاء اس قائل کو کَافِر نہ کہیں گے اگر چہ اس کی با ت کے اکیس پہلوؤں میں بیس کفر ہیں مگر ایک اسلام کا بھی ہے احتیاط و تحسینِ ظن کے سبب(۵) اس کا کلام اسی پہلو پر حمل کر یں گے(۶) جب
= کی شان گھٹادی اور یہ شان گھٹانا توہین ہے اور اسکے بارے میں وہی معاملہ کیا جائے گا جو سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کے ساتھ کیا جائے گا۔ (۱) اس شخص کاعلم اتنا تونہیں کہ تمام معلوماتِ الہی کے برابرہو۔ (۲)اس شخص کو کسی فرشتے یا رَسُول علیھماالسلام کے وسیلے کے بغیر ہی یہ علوم حاصل ہوئے۔نہ ظاہری طور پر علم دینے کا کوئی وسیلہ نہ باطنی طور پر ۔(۳)براہِ راست ۔ 

(۴) سناکر ۔ دکھاکر یا دل میں بات ڈال کر ۔ (۵) احتیاط او رمومن سے اچھا گمان کرنے کی وجہ سے (یعنی یہ سوچ کر کہ مومن بھلاکفر کی با ت کیسے کہہ سکتاہے)۔(۶) اسی اسلامی معنی کو شمار کرینگے ۔اسی معنی پر گمان کریں گے۔
Flag Counter