| ایمان کی پہچان |
والہ وسلّم رَوَاہٗ اَحْمَدُوَالْحَاکِمُ بِسَنَدٍصَحِیْحٍ عَنْ اَبِی ھریرۃ رضی ا ﷲ تعالیٰ عنہ وَلِاَ حْمَدَ وَاَبِی دَاود عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم (۱)۔
(۱۸) عمر و پروحی رسالت(۲) آتی ہے اس کے سبب غیب کاعلم یقینی پاتاہے جس طرح رَسُولوں کو ملتا تھا، یہ اشد کفر ہے(۳)
وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾ (4)
(۱۹)وحی تو نہیں آتی مگر بذریعہ الہام جمیع غیوب ا س پر منکشف ہوگئے ہیں ، اس کا علم تمام معلومات الہٰی کو محیط ہوگیا(۶)۔ یہ یوں کفر ہے اس نے عمرو کو علم میں حُضور پُر نُورسیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ترجیح دے دی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا علم بھی جمیع معلوماتِ الہٰی کو مُحِیط نہیں۔
'' قُل ھَلْ یَسْتَوِیَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ط"
(نسیم الریاض ) (۲۰) جمیع کا احاطہ نہ
(۱) حضرت ابو ھریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے مروی ہے۔ ''جو کسی نجومی یا کاہن کے پاس آئے اور ان کے قول کی تصدیق کرے تحقیق اس نے اس کاانکار کیا جو محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نازل ہوا(یعنی قرآن مجید) احمد اور ابی داؤد کی روایت ہے کہ وہ شخص بیزار ہوااس سے جومحمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ناز ل ہوا۔(۲) وحی جو صرف انبیاء کرام علیھم السلام پر نازل ہوئی تھی ۔(۳)بڑا کفر ہے ۔(۴)ترجمہ:اور لیکن محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲکے رَسُول ہیں اور آخری نبی ہیں اور اﷲہرشے کو جاننے الاہے۔(۵)گویا اﷲتعالی نے اس کے دل میں تمام چھپی ہوئی باتوں کی معلومات ڈال دی ہیں ۔(۶) اْسے اﷲکے برابر علم حاصل ہوگیا۔(۷) ترجمہ: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان(ترجمہ کنز الایمان، پارہ ۲۳، سورہ الزمر، آیت ۹)(۸) جس نے کہا فلاں شخص سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ہے یقینا اس نے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عیب لگایا یعنی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم =
(۷)مَنْ قَالَ فُلَانٌ اَعْلَمُ مِنْہٗ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم فَقَدْ عَابَہٗ فَحُکْمُہٗ حُکْمُ السَّاب(۸)