| ایمان کی پہچان |
طیب و طاہر ہوجائے گا۔ حاشا کہ فقہا ء توفقہاء کوئی ادنیٰ تمیز والا بھی ایسی جہالت بکے ۔بلکہ فقہاء کرام نے یہ فرمایا ہے کہ'' جس مسلمان سے کوئی لفظ ایسا صادر ہو جس میں سو پہلو نکل سکیں ، ان میں ۹۹ پہلو کُفر کی طرف جاتے ہوں اور ایک اسلام کی طرف توجب تک ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے خاص کوئی پہلوکُفر کا مُراد رکھاہے ہم اسے کَافِر نہ کہیں گے کہ آخر ایک پہلو اسلام بھی تو ہے ،کیا معلوم شایداس نے یہی پہلومراد رکھا ہو'' اور ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ'' اگر واقع میں اس کی مُراد کوئی پہلوئے کفر ہے توہماری تاویل سے اسے فائدہ نہ ہوگا(۱)۔وہ عنداﷲکَافِرہی ہوگا (۲)۔ ''اس کی مثال یہ ہے کہ مثلاً زید کہے'' عَمْر و(۳) کو علمِ قطعی یقینی غیب کا ہے(۴)'' ۔ اس کلام میں اتنے پہلوہیں : (۱ )عمر و اپنی ذات سے غیب دان ہے (۵)یہ صَرِیح کفر وشرک ہے
''قُل لَّا یَعْلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیۡبَ اِلَّا اللہُ ؕ''(6)
(۲ )عمر و آپ توغیب دان نہیں مگر جنّ علمِ غیب رکھتے ہیں ۔ اُن کے بتائے سے اِسے غیب کا علم یقینی
(۱)یعنی اگر اس شخص نے کفری معنیٰ کا ارادہ کیا تھا اورہم نے حسن ظن کی وجہ سے کفر کا فتوی نہ دیا تو اس کا اسے کوئی فائد ہ نہ ہوگا یعنی کَافِرتووہ ہوہی گیا۔(۲)اﷲکے دربار میں وہ اپنی نیت کے مطابق کَافِر ہی گناجائے گا۔ (۳)کوئی شخص ، بطور مثال (۴)عمروکوعلم قطعی یقینی غیب کا ہے،یعنی زید کہتا ہے کہ عمروغیب کی بات جانتا ہے اسطرح سے کہ اس کے واقع ہونے میں ذرہ برا بر شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔مثلاً کل بارش ہونے والی ہے یا ہوکر رہے گی۔(۵)اﷲعزّوجل کے بتائے بغیرخود ہی غیب جان لیتاہے۔(۶)ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگراللہ (پارہ ۲۰، النمل ۶۵)۔