Brailvi Books

ایمان کی پہچان
114 - 162
ایک اسلامی عقیدہ ہے۔اب اگر کوئی شخص ۹۹۹مانے اور صرف ایک نہ مانے تو قُرآن عظیم فرمارہا ہے کہ وہ ان ۹۹۹ کے ماننے سے مسلمان نہیں بلکہ صرف اس ایک کے نہ ماننے سے کَافِر ہے، دنیا میں اس کی رسوائی ہوگی اور آخرت میں اس پر سخت تر عذاب جو اَبَدَالآ بَاد (۱) تک کبھی موقوف (۲)ہونا کیا معنی؟ ایک آن کو ہلکا بھی نہ کیا جائے گا نہ کہ ۹۹۹کا انکار کرے اور ایک کو مان لے تو مسلمان ٹھہرے، یہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں بلکہ بشہادتِ قُرآن ِ عظیم خود صَرِیح کُفرہے۔

    خامساً  اصل بات یہ ہے کہ فقہائے کرام پر ان لوگوں نے جیتا اِفْتِراء(۳) اٹھایا ، انہوں نے ہرگزکہیں ایسا نہیں فرمایا بلکہ انہوں نے بہ خصلت یہود(۴)
''یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ''
یہودی بات کواس کے ٹھکانوں سے پھیرتے ہیں(پارہ ۵ النسآ ء ۴۶)۔ تحریف تبدیل کرکے کچھ کا کچھ بنالیا، فقہا ء نے یہ نہیں فرمایا کہ جس شخص میں ننانوے باتیں کفر کی اور ایک اسلام کی ہو وہ مسلمان ہے۔
حاشالِلّٰہ(۵)!
بلکہ اُمت کا اِجْمَاع ہے کہ جس میں ننانوے ہزار باتیں اسلام کی اور ایک کُفر کی ہو وہ یقینًاقطعاًکَافِرہے۔ ۹۹ قطرے گُلاب میں ایک بوند پیشاب کا پڑ جائے ، سب پیشاب ہوجائے گامگر یہ جاہل کہتے ہیں ننانوے قطرے پیشاب میں ایک بوند گلاب کا ڈال دو، سب
 (۱) ہمیشہ ہمیشہ تک ۔(۲) رک جانا، ختم ہوجانا ۔(۳) صاف جھوٹا الزام ۔(۴) یعنی یہودیوں جیسی عادت سے کام لیکر کہ جس طرح یہودی با ت کو اسکی اصل جگہ سے بدل کر وہاں رکھتے ہیں جہاں انہیں اپنا فائدہ نظر آتاہے اسی طرح یہ گستاخ بھی علماء کرام رحمتہ اﷲعلیہم کی عبارتوں میں ردوبدل کرتے رہتے ہیں ۔ (۵)اﷲ کی قسم ہرگزایسی بات نہیں ہے۔
Flag Counter