اس فرقہ بے دین کا تیسرا مکر یہ ہے کہ فقہ میں لکھاہے جس میں ننانوے باتیں کفر کی ہوں اور ایک با ت اسلام کی تو اس کو کَافِرنہ کہنا چاہیے ۔
اولاً یہ مکرِ خَبِیْث سب مکروں سے بدتر و ضعیف جس کا حاصل(۳)یہ کہ جوشخص دن میں ایک بار اذان دے یا دورکعت نماز پڑھ لے اور ننانوے بار بت پوجے , سنکھ پھونکے(۴)، گھنٹی بجائے وہ مسلمان ہے کہ اس میں ننانوے باتیں کفرکی ہیں تو ایک اسلام کی بھی ہے۔ یہی کافی ہے حالانکہ مومن تو مومن کوئی عاقل اسے مسلمان نہیں کہہ سکتا ۔
ثانیاً اس کی رو سے سوا دہریے کے کہ سرے سے خدا کے وجود ہی کا مُنْکِر ہو، تمام کَافِر، مُشرِک مجوس، ہنود و نصاری یہود وغیرہم دنیا بھر کے کفار سب کے مسلمان ٹھہر جاتے ہیں کہ اور باتوں کے مُنکِر سہی آخر وجودِ خدا کے تو قائل ہیں ۔ایک یہی با ت سب سے بڑھ کراسلام کی بات بلکہ تمام اسلامی باتوں کی اصلُ الاصول (۵)ہے خصوصاً کفّارِ فلاسفہ و آر یہ و غیرہم کہ بزعمِ خود(۶)توحید کے بھی قائل ہیں(۷) اور یہود و نصارٰی تو