Brailvi Books

ایمان کی پہچان
110 - 162
بَاِجْماعِ اُمت مقبول ہے(۱)مگر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزارہااَئِمَّہ دین کے نزدیک اصلاً قبول نہیں(۲)اور اسی کو ہمارے علماء حنفیہ سے اما م بزازی و امام محقق علی الاطلاق ابن الہما م و علامہ عمربن نجیم صاحب نہر الفائق و علامہ ابو عبد اﷲمحمد بن عبداﷲغزی صاحب تنویر الابصار و علامہ مولیٰ خسرو صاحب دررو غرر و علامہ زین بن نجیم صاحب بحر الرائق و اشبا ہ و النظائر و علا مہ خیر الدین رملی صاحب فَتَاوٰی خَیْرِیَّہ و علا مہ شیخی زادہ صاحب مَجْمَعُ الْاَنْھُرْ و علا مہ مد قق محمد بن علی حصکفی صاحب دُرِّ مُخْتَارِ وغیرھم عَمَائِد کِبَارعلیہم رحمۃُ اﷲِ العَزِیْزِ الغَفَّار نے اختیار فرمایا:(۳)
بِیْدَ اَنَّ تَحْقِیْقَ الْمَسْئَلَۃِ فَیْ الْفَتَاوٰی الرَّضَوِیّۃ(۴)
اس لئے کہ عدمِ قَبُولِ تو بہ صرف حاکم اسلام کے یہاں ہے(۵) کہ وہ اس معاملہ میں بعد توبہ بھی سزائے موت دے ورنہ ا گر توبہ صدقِ دل سے ہے تو عِنْدَاﷲِمقبول ہے ، کہیں یہ بدگو، اس مسئلہ کو دستاویز (۶)نہ بنالیں کہ آخر توبہ قبول نہیں پھر کیوں تائب ہوں؟ ۔ نہیں نہیں توبہ سے کفر مٹ جائے گا ، مسلمان ہوجاؤگے ، جہنم ابدی سے نجات پاؤگے ،اس قدر پر اجماع (۷)
(۱)کیونکہ بت کوسجدہ کرنے والا اگر توبہ کرے تو ساری امت کافیصلہ ہے کہ اسکی توبہ قبول ہوجائے گی۔(۲)بالکل قبول نہیں ۔(۳)بڑے بڑے بزرگوں نے اختیار فرمایا۔(4) واضح ہوکہ اس مسئلے کی تحقیق فتاوی رضویہ میں ہے ۔ (۵)یعنی یہ تو بہ کا قبول نہ ہونا اسطرح ہے کہ حاکم اسلام اسے توبہ کے بعد بھی قتل کریگا ورنہ اگر تو بہ سچے دل سے ہے تو اﷲعزّوجل کے ہاں مقبول ہے ۔البتّہ حاکم اسلام اب بھی اسے قتل کریگا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو (۶)تحریری ثبوت۔

(۷)یعنی اتنی ہی بات پرامت کا متفقہ فیصلہ ہے
Flag Counter