= کَافِر نہ ہوگاجبکہ خدا کو جھوٹا کہنا بڑا کفر ہے کیونکہ غیراللہ کو سجدہ کرنا صرف علامت کفر ہے۔ اور یہ (خدا کو جھوٹاکہنا )بذات خود کفر ہے اسے یوں سمجھیں کہ جیسے کھانسی ہونا ،ٹی بی کی علامت ہے تو بیماری تو کھانسی بھی ہے اور ٹی بی بھی ، لیکن کھانسی جوکہ ٹی بی کی علامت ہے خود ٹی بی سے چھوٹی بیماری ہے۔(۱)کوئی کسی عالم یا بزرگ کو محض تعظیم کے طور پر سجدہ کرے تو وہ سخت گنہگار توہوگا لیکن کَافِر نہیں ہوگا کیونکہ یہ بزرگ یاعالم بت نہیں اور انہیں سجدہ کرنا کَافِروں کاخاص مذہبی طریقہ بھی نہیں ہے پھر اگر اس شخص نے سجدہ محض ادب کی وجہ سے کیا ہو تو حرام ہے کفرنہیں اور اگر عبادت کی نیت سے کرتا تو کَافِر ہوجاتا گویا بت کو سجدہ کرنے میں نیت نہیں دیکھی جائے گی اور اسے کَافِر قرار دیا جائے گاکیونکہ بت کو سجدہ کر نا کَافِروں کا خاص مذہبی طریقہ ہے اور کسی بزرگ کو سجدہ کرے تو نیت کالحاظ رکھاجائے گایعنی اگرنیت عبادت ہے تو کَافِر اوراگر نیت محض ادب کرنا ہے تو سخت گناہ گار ہے لیکن کَافِر نہیں ہے ۔ (۲)یعنی بتوں وغیرہ کو سجد ہ کرنے سے جو شریعت کَافِر قرار یتی ہے خوا ہ ادباً سجدہ کرے یا عبادت کی نیت سے ،وہ اس وجہ سے کہ بتوں وغیرہ کو سجدہ کرنا کَافِروں کا خاص مذہبی طریقہ ہے۔(۳)یعنی کسی کو سجدہ کرنا تو اس صورت میں کفر ہوگاجب عبادت کی نیت سے کرے یا جسے سجدہ کررہاہے کَافِروں کا جھوٹا معبود ہو یعنی سجدہ بذات خود کفر نہیں ہے بلکہ بُت یاکَافِروں سے مشابہت کی بناپر سجدہ کفر ہوگیا ہے اور سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی گستاخی بذات خود کفرہے تو ان دونوں میں ''گستاخی ''زیادہ خبیث کفر ہے ۔
(۴)یعنی سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی گستاخی ہر پہلوسے کفر ہی ہے سنجیدگی سے کرے خواہ مذاق سے قول سے کرے خواہ فعل سے ہر طرح کفر ہی ہے اسلام کسی طرح نہیں۔(۵)یعنی میں یہ نہیں کہتا کہ بت کو سجدہ کرنے والے او رگستاخ ِ رَسُول اﷲعزّوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں بس اتنا ہی فرق ہے ۔