Brailvi Books

ایمان کی پہچان
108 - 162
کَافِر ہے اگر چہ اہل ِ قبلہ سے ہواور عمر بھر طاعات (۱)میں بسر کرے جیسا کہ شرح تحریر ِ میں امام بن الہمام نے فرمایا ۔

کتب عقائد وفقہ واصول ان تَصْرِیْحات سے مالامال ہیں ۔

رابعاً خود مسئلہ بَدَیہِی ہے (۲)۔ کیا جو شخص پانچ وقت قبلہ کی طرف نماز پڑ ھتا او ر ایک وقت مہاد یو (۳) کو سجدہ کرلیتا ہو، کسی عاقل کے نزدیک مُسلمان ہوسکتا ہے حالانکہ اﷲ کوجھوٹا کہنا یا محمد رَسُول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  کی شان ِاقدس میں گُستاخی کرنا ، مہادیو کے سجدے سے کہیں بدترہے اگرچہ کفرہونے میں برابرہے(۴)
وَذٰلِکَ اَنَّ الْکُفْرَ بَعْضَہٗ اَخْبَثُ مِنْ بَعْضٍ(۵)
وجہ یہ کہ بُت کو سجدہ علامتِ تَکْذیْب ِ خدا ہے(۶)اور علامتِ تَکْذیْب عین تَکْذیْب کے برابر نہیں(۷)ہو سکتی اور سجدہ میں یہ اِحتِمال بھی نکل سکتا ہے کہ محض تَحِیَّتْ و مُجرا مقصود ہو نہ عبادت۔(۸)اورمَحض تَحِیَّتْ فیِ نَفْسِہٖ کفر نہیں(۹)و لہذا اگر مثلاً کسی عالم ِ یا عارف کوتَحِیّۃً سجد ہ کرے ،گنہگار ہوگا، کا فر
 (۱)عبادتوں(۲) یعنی جسے سمجھنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہ ہو(۳) بڑابت ۔(۴)یعنی دونوں عقیدے کفر ہی ہیں ۔(۵)اور یہ اس لئے کہ کچھ کفر دوسرے کفریات سے زیادہ خبیث ہوتے ہیں ۔(۶)بت کو سجدہ کرنا خدا کوجھوٹا کہنے کی علامت ہے ۔(۷)جھوٹا کہنے کی علامت (بت کو سجدہ کرنا) خودخدا کو جھوٹا کہنے سے،کفر میں کمتر ہے ۔یعنی بت کو سجدہ کرنا چھوٹا کفر ہے۔اور خدا کو جھو ٹاکہنا بڑا کفر ہے۔

(۸)کسی کو بت کے آگے سجدہ کرتے دیکھ کر یہ بھی سوچا جاسکتاہے کہ شایدیہ عبادت کی نیت سے سجدہ نہیں کررہا بلکہ محض ادب کی وجہ سے جھک رہا ہے البتہ اس پر کفر کا حکم اس صورت میں اس وجہ سے لگے گاکہ بت کو سجدہ کرنا کَافِروں کاخاص مذہبی طریقہ ہے اوریہ شخص ان کی مشابہت کررہا ہے ۔(۹) ادب سے جھکنا بذات خود کفر نہیں ہے ۔کسی عالم یا عارف کو تحیۃً سجدہ کر ے ، گنہگار ہوگا  =
Flag Counter