| ایمان کی پہچان |
امام اجل سید ی العزیز بن محمد بخاری حنفی رحمتہ اﷲتعالیٰ علیہ تحقیق شرح اصولِ حُسامی میں فر ما تے ہیں :۔
اِنْ غَلَافِیْہِ (اَیْ فِیْ ھَوَاہٗ) حَتّٰی وَجَبَ اِکْفَارُہٗ بِہٖ لَا یُعْتَبَرُ خِلَافُہٗ وَوِفَاقُہٗ اَیْضاًلِعَدْمِ دُخُوْلِہٖ فِیْ مُسَمّٰی الْاُمَّۃِ الْمَشْھُوْدُلَھَا بِالْعِصْمَۃِ وَاِنْ صَلّٰی اِلٰی الْقِبْلَۃِ وَاعْتَقَدَ نَفْسَہٗ مُسْلِمًالِاَنَّ الْاُمَّۃَ لَیْسَتْ عِبَارَۃً عَنِ الْمُصَلِّیْنَ اِلٰی الْقِبْلَۃِ بَلْ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَھُو۔ کَافِر وَاِنْ کَانَ لَا یَدْرِیْ اَنَّہٗ کَافِرٌ ۔
ترجمہ :۔ '' یعنی بد مذہب اگر اپنی بدمذہبی میں غالی(۱)ہو جس کے سبب اُسے کَافِر کہنا واجب ہوتو اِجماع میں اس کی مُخَالَفَت، مُوَافَقَت کا کچھ اعتِبَار نہ ہوگا(۲)کہ خطا سے معصوم ہونے کی شہادت تو اُمت کے لئے آئی ہے اور وہ اُمت ہی سے نہیں اگر چہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتا اور اپنے آپ کو مُسلمان اعتِقَاد کرتا ہواس لئے کہ اُمت قبلہ کیطرف نماز پڑھنے والوں کانام نہیں بلکہ مُسلمان کانام ہے اور یہ شخص کَافِر ہے اگر چہ اپنی جان کو کَافِرنہ جانے''رَد میں ہے:
لَاخِلَافَ فِی کُفْرِ الْمُخَالِفِ فِیْ ضَرَوْرِیَاتِ الْاِسْلَامِ وَاِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْقِبْلَۃِ الْمُوَاظِبِ طُوْلَ عُمْرِہٖ عَلٰی الطَّاعَاتِ کَمَافِیْ شَرْحِ التَّحْرِیْرِ۔
ترجمہ : یعنی ضروریاتِ اسلام سے کسی چیز میں خلاف کرنے والا بالا جماع
(۱)حدسے بڑھا ہوا ہو۔(۲)یہ فرقے کسی معاملے میں خواہ اہلسنت کے موافق رائے دیں یا مخالفت کریں انکی رائے کی کوئی اہمیت نہ ہوگی۔