| ایمان کی پہچان |
الْمُھِمَاتِ فَمَنْ وَاظَبَ طُوْلَ عُمْرِہٖ عَلٰی الطَّاعَاتِ وَالْعِبَادَاتِ مَعَ اِعْتِقَادِ قِدْمِ الْعَالَمِ اَوْنَفْیِ الْحَشْرِ اَوْنَفْیِ عِلْمِہٖ سُبْحٰنَہٗ بِالْجُزْئِیَّاتِ لَایَکُوْنُ مِنْ اَھْلِ الْقِبْلَۃِ وَاِنَّ الْمُرَادَ بِعَدْمِ تَکْفِیْرِ اَحَدٍ مِنْ اَھْلِ الْقِبْلَۃِ عِنْدَ اَھْلِ السُّنَّۃِ اَنَّہٗ لاَیُکَفَّرُ مَالَمْ یُوْجَدُ شَیئٌ مِنْ اَمَارَاتِ الْکُفْرِ وَعَلَامَاتِہٖ وَلَمْ یَصْدُ رْعَنْہٗ شَیئٌ مِنْ مُوْجِبَاتِہٖ ۔
ترجمہ '' یعنی جان لوکہ اہل ِ قبلہ سے مُراد وہ لوگ ہیں جوتمام ضروریاتِ دین میں موافق ہیں (۱)جیسے عالَم کا حاَدِث ہونا (۲)، اجسام کاحشر ہونا(۳)، اﷲتعالیٰ عزّوجلّ کاعلم تمام کُلیات و جزئیات کو محیط ہونا (۴) اور جومْہِم(۵) مسئلے اِن کی مانندہیں ، توجوتمام عمرطاعتوں اورعبادتوں میں رہے اسکے ساتھ یہ اعتقاد رکھتا ہوکہ عَالَم قدیم(۶)ہے یا حشر نہ ہوگا یا ا ﷲ عزّوجلّ جزئیات کونہیں جانتا وہ اہلِ قبلہ سے نہیں اور اہل ِسنّت کے نزدیک اہل ِ قبلہ میں کسی کو کَافِر نہ کہنے سے یہ مُراد ہے کہ اسے کَافِر نہ کہیں گے جب تک اس میں کفر کی کوئی علامت و نشانی نہ پائی جائے اور کوئی بات موجب کُفر اس سے صادر نہ ہو۔''
(۱)تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہیں ۔(۲)یہ ایمان رکھنا کہ دنیا ہمیشہ سے نہیں ہے بلکہ اسے اﷲتعالی نے بعدمیں پیدا فرمایا۔ (۳)قِیَامَت میں جسم دوبارہ زندہ ہونا ۔ (۴)یہ عقیدہ رکھنا کہ اﷲعزّوجل کو ہر بڑی اور چھوٹی بات کاتفصیلاً علم ہے ۔(۵)اہم(۶) معا ذاﷲیہ عقیدہ رکھنا کہ دنیا ہمیشہ سے ہے جسطرح اﷲعزّوجل ہمیشہ سے ہے۔جبکہ ایسانہیں یعنی دنیا ہمیشہ سے نہیں ہے بلکہ اﷲعزّوجل نے اسے بعد میں بنایا ہے۔