ترجمہ :'' یعنی مواقف میں ہے کہ اہل قبلہ (۱)کو کَافِر نہ کہاجاو ے گا مگر جب ضروریاتِ دین یا اجماعی باتوں(۲)سے کسی بات کا انکار کریں جیسے حرام کو حلال جاننا اور مخفی نہیں کہ ہمارے علماء جو فرما تے ہیں کہ کسی گناہ کے باعث اہل ِ قبلہ کی تکفیر ،روا نہیں(۳) اس سے نِراقبلہ کومنہ کرنا مراد نہیں کہ غالی رافضی(۴) جوبکتے ہیں (۵)کہ جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام کووحی میں دھوکا ہوا۔ اﷲتعالیٰ ل نے انہیں مولیٰ علی کرم اﷲوجہہ الكريم کی طرف بھیجا تھا اور بعض تو مولیٰ علی کو خدا کہتے ہیں یہ لوگ اگرچہ قبلہ کی طرف نماز پڑھیں,مُسلمان نہیں اور اس حدیث کی بھی یہی مراد ہے جس میں فرمایا کہ جوہماری سی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے وہ مُسلمان ہے۔ "یعنی جب کہ تمام ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتا ہو اور کوئی با ت منافیئ ایمان نہ کرے......۔اسی میں ہے: