| ایمان کی پہچان |
میں گستاخی کر ے وہ کَافِر ہے اور جو اس کے مُعذَّب یا کَافِر ہونے میں شک کرے وہ بھی کَافِر ہے۔ ''مَجْمَعُ ا لْاَنْھُرْودُرِّمُختار میں ہے
وَاللَّفْظُ لَہٗ۔ اَلْکَافِرُ بِسَبِّ نَبِیٍّ مِنَ الْاَنْبِیَاءِ لاَتُقْبَلُ تَوْبَتُہٗ مُطْلَقًا مَنْ شَکَّ فِیْ عَذَابِہٖ وَ کُفْرِہٖ کَفَرَ۔
ترجمہ :'' جوکسی نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کَافِر ہوااس کی توبہ کسی طرح قبول نہیں اور جو اسکے عذاب یا کفر میں شک کرے خود کَافِر ہے۔ ''
الحمد ﷲعزّوجلّ ! یہ نفس ِ مسئلہ(۲) کاو ہ گراں بَہَاجُزْئِیَّہ(۳) ہے جس میں ان بدگویوں کے کفرپر اجماعِ تمام اُمت کی تصَرِیح ہے(۴)اور یہ بھی کہ جو انہیں کَافِر نہ جانے خود کَافِر ہے ۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
فِیْ الْمَوَاقِفِ لَا یُکَفَّرُ اَھْلُ الْقِبْلَۃِ اِلَّا فِیْمَا فِیْہِ اِنْکَارُ مَا عُلِمَ مَجِیْئُہٗ بِالضَّرُوْرَۃِ اَوِالْمُجْمَع عَلَیْہِ کَاِسْتِحْلَالِ الْمُحْرَمَاتِ اھ وَلَا یَخْفٰی اَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِ عُلَمَائِنَالَا یَجُوْزُتَکْفِیْرُ اَہْلِ الْقِبْلَۃِ بِذَنْبٍ لَیْسَ مُجَرَّدَ التَّوَجُّہِ اِلٰی الْقِبْلَۃِ فَاِنَّ الْغُلَاۃَ مِنَ الرَّوَافِضِ الَّذِیْنَ یَدَّعُوْنَ اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہ ِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ غَلَطَ فِی الْوَحْیِ فَاِنَّ اﷲَ تعالٰی اَرْسَلَہٗ اِلٰی عَلِیٍّ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وَ بَعْضُھُمْ قَالُوْ ا اِنَّہٗ اِلٰہٌ وَاِنْ صَلُّوْااِلٰی الْقِبْلَۃِ لَیْسُوْا بِمُؤْمِنِیْنَ وَھٰذَاھُوَالْمُرَادُ
(۱)عذاب کے مستحق ہونے میں ۔(۲) زیر نظر سوال ۔ (۳)قیمتی اصول ۔قیمتی عبارت ۔ (۴)وضاحت سے لکھاہے کہ گستاخ ر سول کا کَافِر ہونا تمام امت کا متفقہ فیصلہ ہے ۔