Brailvi Books

ایمان کی پہچان
102 - 162
رَأیِی ورَأیُہٗ عَلٰی اَنَّ مَنْ قَالَ بِخَلقِ القُرٰانِ فَھو کَافِروصَحَّ ھٰذا الْقَوْلُ اَیْضًاعَنْ مُّحمدٍ رحمہ اﷲتعالی ۔
ترجمہ : '' امام فخر الاسلام رحمتہ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں امام یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے فرمایا میں نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسئلہ خلق قُرآن میں مناظرہ کیا(۱)،میری اور ان کی رائے اس پر متفق ہوئی کہ جو قُرآن مجید کومخلوق کہے وہ کَافِر ہے او ریہ قول امام محمد رحمتہ اﷲتعالی ٰ سے بھی بصحت ثبوت کو پہنچا۔(۲) ''

    یعنی ہمارے ائمہ ثلاثہ (۳)رضی اللہ عنہم کا اجماع(۴) و اتفاق ہے کہ قرآن عظیم کو مخلوق کہنے والاکَافِرہے۔کیا مُعْتَزِلَہ و کَرَامِیَہ ورَوَافِض(۵) کہ قُرآن کو مخلوق کہتے ہیں اس قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتے ، نفسِ مسئلہ کا جُزْئِیَّہ لیجئے (۶)امامِ مذہب حَنفی سید نا امام اَبُو یو سف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ''کتاب الخِراج'' میں فرماتے ہیں :
اَیَّمَارَجُل مُسْلِم سَبَّ رَسُولَ اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم  اَوْکَذَّ بَہٗ اَوْعَابَہٗ اَوْ تَنَقَّصَہٗ فَقَدْ کَفَرَ بِاﷲِتَعَالٰی بَانَتْ
 (۱) آپس میں دلائل کے ساتھ بات چیت کی کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔ (۲)اور یہی بات امام محمد رحمتہ اﷲعلیہ سے بھی ثابت ہے یعنی آپ نے بھی یہی فرمایا۔

(۳)امام اعظم و امام ابو یوسف و امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم(۴) امت کے بڑے بڑے اماموں کا متفقہ فیصلہ ہے(۵) یہ تینوں گمراہ فرقے ہیں جو قرآن کو مخلوق مانتے ہیں ۔ (۶)جس مسئلے میں ہم بحث کررہے ہیں (یعنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اﷲعزّوجل  کی گستاخی کرنے والا چاہے قبلہ کی طرف نماز پڑھے ،کَافِر ہے)اس مسئلے کا اصول دیکھئے۔
Flag Counter