| ایمان کی پہچان |
کہ جھوٹا ہے، جھوٹ بولتا ہے جو اسے جھوٹا بتائے مسلمان سْنّی صالح ہے ،والعیا ذ باﷲرب العالمین ۔
ثانیاً اس وہمِ شَنِیْع (۱)کو مذہب ِ سید نا امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتانا حضرت اما م پر سخت اِفْتِراء(۲)واتہام(۳)جبکہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے عقائد کریمہ کی کتاب مطہر(۴)فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :۔صِفَاتُہٗ تعالٰی فِی الْاَزَلِ غَیْرُمُحْدَثَۃٍ وَلَامَخْلُوْقَۃٍ فَمَنْ قَالَ اِنَّھَامَخْلُوْقَۃ اَوْمُحْدَثَۃ اَوْوَقَفَ فِیْہَا اَوْشَکَّ فِیْہَا فَھَوَکَافِرٌ بِاﷲِتِعَالٰی۔
ترجمہ :۔ اﷲتعالیٰ کی صفتیں قدیم ہیں(۵)نہ توپیدا ہیں نہ کسی کی بنائی ہوئی تو جوانہیں مخلوق (۶)یا حادث(۷) کہے یا اس با ب میں تَوَقُّف(۸)کرے یا شک لائے وہ کَافِر ہے اور خدا کا منکر۔ نیز امامِ ہُمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتاب الوصیتہ میں فرماتے ہیں :
مَنْ قَالَ بِاَنَّ کَلَامَ اﷲِتعالیٰ مَخْلُوْق فَھُوَ کَافِرباﷲالعظیم۔
ترجمہ:'' جو شخص کلام اﷲکو مخلوق کہے اس نے عَظْمَت والے خدا کے ساتھ کفر کیا ۔ '' شرح فقہ اکبر میں ہے:۔
قَالَ فَخرُ الْاسْلَام قَدْ صَحَّ عَنْ اَبِی یُوسُفَ اَنَّہٗ قَال نَاظَرْتُ اَبَا حَنِیفۃَ فِی مَسئَلۃِ خَلقِ القُرٰان فَا تَّفَقَ
(۱)انتہائی بْرے خیال ۔ (۲) جھوٹ ۔(۳) تہمت ۔جھوٹا الزام ۔(۴) پاک کتاب ۔ (۵) ہمیشہ سے ہیں ۔(۶)جسے کسی نے بنایا ہو۔(۷)جو ہمیشہ سے نہ ہو بلکہ بعدمیں بنایا جائے ،مخلوق ۔(۸) سوچ بچار (نہ انکار نہ اقرار)۔ فائدہ سچا ہونا اﷲعزوجل کی صفت ہے تو جواسکا انکار کر ے یعنی اسے جھوٹا مانے وہ کَافِر ہے ۔