Brailvi Books

عیدین میں گلے ملناکیسا؟
4 - 56
والحمدللہ ولی الإنعام(۱)۔
عیدِ اوّل میں فتوٰی اوّل
    مسئلہ۱۴۵۰:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معانقہ بے حالتِ سفر بھی جائز ہے یانہیں ؟اور یہ کہ جو اسے قدومِ مسافر (۲)کے ساتھ خاص اور اس کے غیر میں ناجائز بتاتا ہے ،قول اس کا شرعًا کیسا ہے ؟
الجواب
    کپڑوں کے اوپر سے معانقہ بطورِ بِرّ و کرامت (۳)واظہارِ محبّت،بے فسادِنیّت وموادِّشہوت،بالاجماع(۴)جائز،جس کے جوازپراحادیثِ کثیرہ و روایاتِ 

ِ شہیرہ ناطق(۵)، اور تخصیصِ سفر کا دعوٰی محض بے دلیل،احادیث نبویہ و تصریحاتِ فقہیہ اس بارے میں برو جہ اطلاق وارد(۶)،اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب اور بے مدرک شرعی تقیید وتخصیص مردود وباطل(۷)،ورنہ نصوصِ شرعیہ (۸)سے امان اٹھ جائے،
کمالایخفٰی(۹) ابن أبي الدنیا ''کتاب الإخوان''اور دیلمی'' مسند الفردوس''اور أبو جعفر عقیلي، حضرت تمیم داري رضي اللہ تعالی عنہ
سے راوی
= نہیں بلکہ تیرہ سوبارہ(۱۳۱۲) بنے گاجیسا کہ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ عزّوجل علیہ نے فرمایا۔

۱۔اور سب خوبیاں اللہ عزّوجل کو جو احسان کا مالک ہے۔     ۲۔مسافر کے سفر سے واپس آنے۔

۳۔بھلائی اور تعظیم کے اعتبار سے۔     ۴۔نیت کی خرابی اور شہوات کے اسباب کے بغیر ،متفقہ طور پر۔۵۔مشہور روایات،منکر کو خاموش کرنے کے لیے کافی۔     ۶۔مطلق طور پر ذکر کی گئی ہیں ۷۔ بغیر کسی شرعی سمجھ بوجھ رکھنے والے کی قید لگانے اور خاص کرنے کے مردود اور غلط ۸۔شرعی دلائل       ۹۔جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔
Flag Counter