Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
99 - 324
اس کی جمع مذکر سالم بھی آتی ہے، جیسے شاعر کمیت نے کہا:
''فقد رَجَعُواکَحَیٍّ واحِدِینا''۔
علم یا طاقت وغیرہ میں فائق وبے مثل، کسی چیز کا جز۔
ج:وُحْدَانٌ، اُحْدَانٌ۔ خَال:الشیءَ (س)خَیْلًا:
گمان کرنا، خیال کرنا، کچھ سمجھنا۔
''من یَسمَعْ یَخل''۔
جو لوگوں کی باتیں (عیوب وغیرہ)سنتاہے وہ کچھ گمان ضرور کرتاہے، یعنی اس کے دل میں ان کے متعلق برا خیال وجذبہ پیدا ہوتاہے۔
یَعْنُوْنَ:عَنٰی بالقولِ کذا(ض)عَنْیًا:
کسی بات سے کسی چیز کا قصد وارادہ کرنا۔مطلب لینا ،مراد لینا۔
10۔۔۔۔۔۔

        اِذَا الْکُمَاۃُ تَنَحَّوْا اَنْ یُّصِیْبَھُمْ          حَدَّ الظُّبَاۃِ وَصَلْنَاھَا بِاَیْدِیْنَا
ترجمہ:

    جب بہادر(دشمنوں کے سامنے سے)ہٹ جاتے ہیں اس خوف سے کہ کہیں انہیں تلواروں کی دھار نہ لگ جائے تو ہم اپنے ہاتھوں سے تلواروں کو(دشمنوں میں)پہنچاتے ہیں۔

حل لغات:

     تَنَحَّوْا:(تفعل)، تَنَحّٰی:ایک کنارہ یا ایک گوشہ میں ہوجانا،ایک طرف ہوجانا۔عن مکانِہٖ:اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔اَلظُّبَاۃُ:مف:اَلظُّبَۃُ:تلوار، بھالہ اور خنجر وغیرہ کی دھار۔
وَصَلْنَا:وَصَلَ الشیءَ بالشیءِ(ض)وَصْلاً:
ایک شے کو دوسری سے ملانا، جوڑنا۔
فی القرآن لمجید:
 (وَالَّذِیْنَ یَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللّہُ بِہِ أَن یُوصَلَ) (13/21)
جمع کرنا، فلانًا:تعلق رکھنا، کسی سے بھلائی کرنا ، کسی کو مال دینا،
وُصُوْلا الی المکانِ:
پہنچنا۔
(إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَن یَصِلُواْ إِلَیْکَ) (11/81)
الی بنی فلانٍ:
کسی قبیلہ میں رشتہ داری قائم کرنا ،اس کی طرف اپنا انتساب کرنا۔
 (اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوْ مٍۭ بـَیۡنَکُمْ وَبَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ) (4/90)
11۔۔۔۔۔۔

     وَلَا تَرَاھُمْ وَاِنْ جَلَّتْ مُصِیْبَتُھُمْ            مَعَ الْبُکَاۃِ عَلٰی مَنْ مَاتَ یَبْکُونَا
ترجمہ:

    اے محبوبہ تو بنونہشل کومردے پر رونے والوں کے ساتھ روتاہوانہیں دیکھے گی اگر چہ ان کی مصیبت بڑی ہو۔
حل لغات:
    جَلَّتْ:جَلَّ(ض)جَلالاً:
بلند رتبہ ہونا، شاندار ہونا، بڑا ہونا۔
فی القرآن المجید:
 (تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِیْ الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ) (55/78)
اَلْبُکَاۃُ:مف:بَاکٍ۔بکی(ض)بُکاَءً:
رونا۔
 ( فَلْیَضْحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّلْیَبْکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ) (9/82)
Flag Counter