| دِيوانِ حماسه |
12۔۔۔۔۔۔
وَنَرْکَبُ الْکُرْہَ اَحْیَا نًا فَیَفْرِجُہ، عَنَّا الْحِفَاظُ وَاَسْیَافُ تُوَاتِیْنَاترجمہ:
اور ہم بسااوقات جنگ پر سوار ہوتے ہیں تو حسب کی حفاظت کرنے والے لوگ اور موافقت کرنے والی تلواریں اسے ہم سے دورکردیتی ہیں۔
مطلب:
جنگ میں ہمارے سردار اور ہمارے ہتھیار ہم سے وفاداری کرتے ہیں اور ہمیں ان پر یقین کامل ہوتاہے لہذا (ہم)بے خوف ہوکربے جگری سے لڑتے ہیں اور کامیابی حاصل کرتے ہیں ۔حل لغات:
یَفْرِجُ:فرج الشیئَ(ض)فَرجاً:
کھولنا، کشادہ کرنا، پھاڑنا۔
فی القرآن المجید:
(وَإِذَا السَّمَاء فُرِجَت) (77/9)
اَلْحِفَاظُ:حفاظت ،دفاع ،وفاءِ عہد۔اَلْحِفَاظ:مص (مفاعلۃ)،
حَافظ علی الشیئِ:
حفاظت کرنا، خیال رکھنا،توجہ دینا، پابندی کرنا۔
(حَافِظُواْ عَلَی الصَّلَوَاتِ والصَّلاَۃِ الْوُسْطَی) (2/238)
تُوَاتِی:(مفاعلۃ)آتٰی فلانا علی الامرِ:
کسی سے کسی بات پر اتفاق کرنا،کسی کوصلہ دینا۔
وَقَالَ السَّمَوْاَلُ بْنُ عَادِیَا (الطویل)
شاعر کاتعارف:
شاعرکانام سَمَوْاَئل بن عادیاء ہے ،یہ جاہلی شاعر ہے ،اس کی وفاداری مشہور تھی۔1۔۔۔۔۔۔ اِذَاالْمَرْءُ لَمْ یَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْضَہ، فَکُلُّ رِدَاءٍ یَرْتَدِ یْہِ جَمِیْل،
ترجمہ:
جب آدمی کنجوسی سے اپنی عزت کو میلا نہ کرے تو جو بھی چادر (لباس)پہنے اچھی ہے۔ لالچی انسا ن کو راحت نہیں ہوتی ہے نصیب
مال کی موجودگی میں بھی رہتا ہے غریبمطلب:
شیخ الادباء نے کہا کہ اس کامطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ جس شخص کا خیال ہو کہ جرائم کے ارتکاب سے عز ت میں کوئی