Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
98 - 324
8۔۔۔۔۔۔

      اِنِّیْ لَمِنْ مَعْشَرٍ اَفْنٰی اَوَائِلَھُمْ              قَوْلُ الْکُمَاۃِ اَ لَا اَیْنَ الْمُحَامُوْنَا
ترجمہ:

    بے شک میں ایسے خاندان سے ہوں جن کے اکابرکو بہادروں کے اس قول نے فناکردیا:خبردار!کہاں ہیں محافظ؟

مطلب:

     میں ایسے معزز خاندان سے ہوں جن کے آباء واجدادکوجب بہادروں نے جنگ میں حفاظت کیلئے پکارا ، تو انجام سے صرف نظرکرتے ہوئے فورا ًمدد کیلئے پہنچ گئے دشمنوں کو ابدی نیند سلادیا اور خود بھی دار البقاء کی طرف چلے گئے۔     

حل لغات:

     مَعْشَرٌ:ایک طرز کے لوگ ،جماعت جس کے مشاغل واحوال ایک جیسے ہوں،جیسے:
مَعْشَرُالطُلّا بِ، مَعْشَرُ التُجَّارِ۔
فی القرآن المجید:
 (یاَ مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ) (6/130)
اہل وعیال ،رشتہ دار۔
ج:مَعَاشِرُ۔ اَفْنٰی:(افعال)اَفْنٰی الشیئَ:
فنا کرنا، ختم کرنا، گنوا دینا۔عربی مقولہ ہے:
''یُفْنٰی ما فِی القُدُورِویَبْقٰی ما فِی الصُّدُور''ِ۔
یعنی مال فانی، علم باقی ہے ۔اَلْکُمَاۃُ:مف:الکَمِیُّ:بہادر، ہتھیاربند، زرہ پوش، راز دان۔
اَلْمُحَامُوْنَ:فا۔مف:مُحَامِیْ(مفاعلۃ)،حامٰی عنہ:
دفاع کرنا، حمایت کرنا، وکالت کرنا، پیروی کرنا۔
9۔۔۔۔۔۔

     لَوْکَانَ فِی الْاَلْفِ مِنَّا وَاحِدٌ فَدَعَوْا           مَنْ فَارِسٌ خَالَھُمْ اِیَّاہُ یَعْنُوْانَا
ترجمہ:

    اگر ہزار وں میں بھی ہماراکوئی آدمی ہوپھردشمن پکاریں:''کون ہے شہسوا ر''؟ تو وہ سمجھے گاکہ دشمنوں کی مرادمیں ہی ہوں۔ 

حل لغات:

     الالف:مکمل ہزار
۔ج:آلاف،اُلُوف ۔فی القرآن المجید:
 (کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ) (22/47)
واحد:اﷲکی صفت،
(وَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِد) (2/163)
اپنی ذات وصفات میں تنہا ،لاثانی،وہ ذات واحد جس کی ماہیت اور صفات کمال میں غیر کی شرکت ممتنع ہواور جو بلاواسطہ اور بلاکوشش ایجاد وتدبیر عام میں منفرد ہو اور کسی قسم کی تاثیر میں اس کے سوا کو ئی مؤثر نہ ہو، ایک (حساب کا پہلاعدد)کبھی اس کا تثنیہ بھی آتاہے جیسے شاعر کا قول ہے:
      فَلَمّا التَقَیْنَا واحِدَیْن عَلَو تُہ             بِذِی الکَفِّ انی للکُماۃِ ضُروبُ
Flag Counter