لوگوں کے درمیان آنا، الصبیُ:دودھ چھڑانا، غلاما:نوجوان لڑکا جس کی مونچھیں نکل آئی ہوں ، پیدائش سے جوان ہونے تک کی عمر کا لڑکا۔
(قَالَ یَا بُشْرَی ھَـذَا غُلاَمٌ وَأَسَرُّوہُ بِضَاعَۃً) (12/19)
6۔۔۔۔۔۔
اِنَّا لَنُرْخِصُ یَوْمَ الرَّوْعِ اَنْفُسَنَا وَلَوْ نُسَامُ بِھَا فِی الْاَ مْنِ اُغْلِیْنَا
ترجمہ:
بے شک جنگ کے دن ہم اپنی جانیں سستی کردیتے ہیں اور اگرامن کے زمانے میں ہماری جانوں کا بھاؤ کیاجائے تو مہنگی کردی جاتی ہیں۔
مطلب:
ہم لوگ انمول ہیں لیکن جنگ میں جان کی پرواہ کئے بغیر بڑی بے جگری سے لڑتے ہیں۔
نُرْخِصُ:(افعال)، اَرْخَصَ السِّعرَ:
قیمت کم کرنا، سستاکرنا۔ الشیئَ:سستا پانا، سستالگنا، سستا خریدنا۔الروع:خوف ،ڈر، لڑائی۔
نُسامُ:سَامَ السِّلْعَۃَ(ن)سَوْماً:
سامان فروخت کرنے کے لئے پیش کرنااور اس کی قیمت بتانا۔
اَلْاَمْنُ:مص، امن(س)اَمْنًا:
(أُوْلَئِکَ لَہُمُ الأَمْنُ وَھُم مُّہْتَدُونَ) (6/82)
البلدَ:ملک میں امن وامان ہونا۔فلانًا علی کذا:کسی پر اعتماد و بھروسہ کرنا،امانت میں دینا۔
(قَالَ ھَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْہِ إِلاَّ کَمَا أَمِنتُکُمْ)(12/64)
''مَنْ اَمِنَ الزّمانَ خَانَہ،''۔
جو شخص بھی زمانہ سے مأمون ہو ازمانے نے اس سے خیانت کی، یعنی حوادثات زمانہ سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اُغْلِیْنَا:(افعال)، اَغْلَی الشَّیْءَ:
مہنگا پانا، مہنگاخریدنا ۔ السِّعْرَ:بھاؤکو گراں کرنا،قیمت بڑھانا۔
7۔۔۔۔۔۔
بِیْضٌ مَفَارِقُنَا تَغْلِیْ مَرَاجِلُنَا نَاْئسُوْا بِاَمْوَالِنَا آثَارَ اَیْدِ یْنَا
ترجمہ:
ہمارے سر کی مانگیں سفید ہیں ،ہماری ہانڈیاں ابل رہی ہیں، ہم اپنے ہاتھوں کے نشانات جرائم (زخم)کا مداوااپنے