Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
96 - 324
پاس غلام اور نوکر چاکرہوں، بڑی جماعت کامنتظم ومتولی۔
 (وَسَیِّداً وَحَصُوراً وَنَبِیّاً مِّنَ الصَّالِحِیْنَ) (3/39)
ہر واجب الاطاعت شخص، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نسل، یعنی حضرت فاطمہ رضی اﷲعنھا کی اولاد سے تعلق رکھنے والا ہرفرد۔ ہرچیز کا اعلی وارفع، جیسے کہا جائے :
''القرآن سید الکلام''۔ج:سَادَۃُ،،سَیَائِدُ۔ اِفْتَلَیْنَا:(افتعال)، اِفْتَلَی الْقَوْمُ:
لوگوں کے درمیان آنا، الصبیُ:دودھ چھڑانا، غلاما:نوجوان لڑکا جس کی مونچھیں نکل آئی ہوں ، پیدائش سے جوان ہونے تک کی عمر کا لڑکا۔
(قَالَ یَا بُشْرَی ھَـذَا غُلاَمٌ وَأَسَرُّوہُ بِضَاعَۃً) (12/19)
مرد (مجازا)خادم،نوکر ۔
ج:غِلْمَانُ، وغِلْمَۃُ،۔
6۔۔۔۔۔۔

      اِنَّا لَنُرْخِصُ یَوْمَ الرَّوْعِ اَنْفُسَنَا             وَلَوْ نُسَامُ بِھَا فِی الْاَ مْنِ اُغْلِیْنَا
ترجمہ:

    بے شک جنگ کے دن ہم اپنی جانیں سستی کردیتے ہیں اور اگرامن کے زمانے میں ہماری جانوں کا بھاؤ کیاجائے تو مہنگی کردی جاتی ہیں۔

مطلب:

     ہم لوگ انمول ہیں لیکن جنگ میں جان کی پرواہ کئے بغیر بڑی بے جگری سے لڑتے ہیں۔
حل لغات:
     نُرْخِصُ:(افعال)، اَرْخَصَ السِّعرَ:
قیمت کم کرنا، سستاکرنا۔ الشیئَ:سستا پانا، سستالگنا، سستا خریدنا۔الروع:خوف ،ڈر، لڑائی۔
نُسامُ:سَامَ السِّلْعَۃَ(ن)سَوْماً:
سامان فروخت کرنے کے لئے پیش کرنااور اس کی قیمت بتانا۔
اَلْاَمْنُ:مص، امن(س)اَمْنًا:
مطمئن ہونا،بے خوف ہونا۔
فی القرآن المجید:
 (أُوْلَئِکَ لَہُمُ الأَمْنُ وَھُم مُّہْتَدُونَ) (6/82)
البلدَ:ملک میں امن وامان ہونا۔فلانًا علی کذا:کسی پر اعتماد و بھروسہ کرنا،امانت میں دینا۔
 (قَالَ ھَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْہِ إِلاَّ کَمَا أَمِنتُکُمْ)(12/64)
''مَنْ اَمِنَ الزّمانَ خَانَہ،''۔
جو شخص بھی زمانہ سے مأمون ہو ازمانے نے اس سے خیانت کی، یعنی حوادثات زمانہ سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اُغْلِیْنَا:(افعال)، اَغْلَی الشَّیْءَ:
مہنگا پانا، مہنگاخریدنا ۔ السِّعْرَ:بھاؤکو گراں کرنا،قیمت بڑھانا۔
7۔۔۔۔۔۔

     بِیْضٌ مَفَارِقُنَا تَغْلِیْ مَرَاجِلُنَا                نَاْئسُوْا بِاَمْوَالِنَا آثَارَ اَیْدِ یْنَا
ترجمہ:

    ہمارے سر کی مانگیں سفید ہیں ،ہماری ہانڈیاں ابل رہی ہیں، ہم اپنے ہاتھوں کے نشانات جرائم (زخم)کا مداوااپنے
Flag Counter