Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
94 - 324
ترجمہ:

    اور اگر تو کسی دن معزز لوگوں کے سرداروں کو جنگ ا ورجودوسخا وت کیلئے بلائے توہمیں بھی بلا(کیونکہ ہم بھی سردارہیں)

مطلب:

     شاعر اپنی محبوبہ کو خطاب کرتاہے کہ ہم تجھے چاہتے ہیں تو بھی ہمارا خیال رکھ جب دوسروں کو دعوت طعام یا جنگ کے لئے بلائے تو ہمیں بھی بلا؛ کیونکہ ہم بھی اس کے اہل ہیں، ہمیں فراموش کرنا اچھی بات نہیں۔
                ماناکہ غم  کے  بعد مسرت  ضرور ہے

                لیکن جیئے گاکون تیری بے رخی کے بعد
حل لغات:

    جُلّٰی:مؤنث الاجل کی :بڑا کام ، امر عظیم ، بڑی آفت ،مصیبت ۔ یہاں کنا یہ ہے سخت جنگ سے، ج:جُلَلٌ۔ مَکْرُمَۃٌ:کریمانہ فعل ، قابل قدر کام،کارنامہ ، سخاوت، بھلائی، فراخ دلانہ عطیہ، بلندءِ کردار۔
ج:مَکَارِمُ۔فی الحد یث:((بعثت لاتمم مکارم الاخلاق))۔
سَراۃٌ:ہر شے کا بلند حصہ، درمیانی حصہ، اکثر حصہ۔سَرَوَاتُ القومِ۔سرداران قوم، معززین قوم، شرفاء قو م۔
3۔۔۔۔۔۔

      اِنَّا بَنِیْ نَھْشَلٍ لَا نَدَّعِیْ لِاَبٍ              عَنْہُ ولا ھُوَ بِالْاَبْنَاءِ یَشْرِیْنَا
ترجمہ:

    بے شک ہم نہشل کی اولاد ہیں اسے چھوڑ کر کسی اور کی طرف اپنی نسبت نہیں کرتے اورنہ ہی وہ دوسروں کے بیٹوں کے بد لے ہمیں بیچتاہے۔

مطلب:

     ہمارا خاندان گھٹیا نہیں بلکہ اعلی وعمدہ ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے اورہم بھی ایسے لائق وفائق ہیں کہ ہمارا باپ ہم سے راضی ہے کسی اور کی تمنا نہیں کرتا۔
حل لغات:
     یَشْرِیْ:شَرَی الشیئَ:
بیچنا ۔
فی القرآن المجید:(ا وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً) (2/41)
خریدنا۔
 (إِنَّ اللّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃ ) (9/111)
Flag Counter