ج:خِیَا رٌ و أَخْیَارٌ وخُیُوْرٌ۔اَلْاَخْیارُ وخَیارُالناسِ:
نیک اور منتخب لوگ۔ حَیَاۃٌ:زندگی ،نشوونما،بقاء، منفعت، جمادات کے مقابلہ میں حیوانات ونباتات میں پائی جانے والی تمام حرکات اور نشو ونماکی خصوصیات، جیسے:تَغْذِیَہْ ، نشوونمااور تَناسُلْ وغیرہ جوانسان اور حیوان دونوں میں ہیں،جمادات میں نہیں۔
(وَمَا ہَذِہِ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلَّا لَہْوٌ وَلَعِب) (29/64)
عُدَّ:عَدَّالدَّراھِمَ(ن)عَدًّا:
گننا ، شمار کرنا، شمار میں لانا، فلانًاصادِقًا:کسی کوسچا سمجھنا۔سَقَطٌ:ہر گری ہوئی چیز، ردی اور خراب چیز۔اَلْمَتاعُ:لطف،استفادہ،نفع، ہر قابل استفادہ چیز ،سامان خانہ فرنیچر وغیرہ، سامان تفریح، سامان تجارت وغیرہ، اسباب زندگی مال وغیرہ، کھانے پینے کی چیزیں، کل پرزے، لہو ولعب، کلی میں تانیث (مادہ پن)کا عضو۔ج:اَمْتِعَۃٌ۔
وقال بعض بنی قیس بن ثعلبۃ(البسیط)
بقول ِ بعض یہ اشعار:بشامۃ بن جزء نہشلی کے ہیں۔
اور بیروت کے نسخے(ص20)اور"شرح مرزوقی"کے حاشی ہمیں تبریزی کے حوالہ سے شاعر کانام:بشامۃ بن حزن نہشلی ہے۔
1۔۔۔۔۔۔
اِنَّا مُحَیُّوکِ یا سَلْمٰی فَحَیِّیْنَا وَاِنْ سَقَیْتِ کِرامَ الناسِ فَا سْقِیْنَا
ترجمہ:
اے سلمی!ہم تجھے سلام کررہے ہیں لہذا تو بھی ہمیں سلام کر اور اگر تو معززلوگوں کوپلائے تو ہمیں بھی پلا۔
اے ساقی اور وں کو پلاتا ہے جی بھرکے
دو گھونٹ ہمیں بھی پلادے جینے کیلئے
مُحَیُّوْ:فا،(تفعیل)،''حَیَّاکَ اﷲُ'':
یعنی اﷲتعالی تمہاری عمر دراز کرے۔ سلام کرنا۔
(وَإِذَا حُیِّیْتُم بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْہَا أَوْ رُدُّوھَا) (4/86)
سَقَیْتِ:سقی فلانًا(ض)،سَقْیًا:
پانی پلانا۔الحیوانَ:پانی سے سیراب کرنا۔
( قَالَتَا لَا نَسْقِیۡ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَآءُ ) (28/23)
2۔۔۔۔۔۔
واِنْ دَعَوْتِ اِلٰی جُلّٰی ومَکْرُمَۃٍ یو مًا سَراۃَ کِرامِ الناسِ فَادْعِیْنَا