Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
91 - 324
تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ) (3/92)
مِنْ عَدُوِّہٖ وِتْرَہ،:
دشمن سے انتقام لینا۔
 (وَلاَ یَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلاً إِلاَّ کُتِبَ لَہُم بِہِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللّہَ لاَ یُضِیْعُ أجْرالْمُحْسِنِیْن)(9/120)
کسی تک کوئی چیز پہنچنا۔
 (لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُھَا)(22/37)
اَلْخُلُوْدُ:دوام ،ہمیشگی۔
 (ذَلِکَ یَوْمُ الْخُلُودِ)(50/34)
مُسْتَطاعٌ۔مفع، (استفعال)،استطاع الامرَ:طاقت رکھنا،لائق ہونا۔
4۔۔۔۔۔۔

      ولا ثَوْبُ الْبَقَاءِ بِثَوْبِ عِزٍّ                      فَیُطْوٰی عَنْ اَخِی الْخَنَعِ الْیَراعٖ
ترجمہ:

اور بقاء کا لباس عزت کا لباس نہیں کہ ذلیل بزدل انسان سے اتار لیا جائے۔

مطلب :

    گیدڑکی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہترہے(شہیدٹیپو سلطان شاہِ ہندوستان علیہ رحمۃ المنان)

حل لغات:

     ثَوْبٌ:کپڑا، زیور، کپڑوں کا تھان۔عِزٌّ:عزت وآبرو، طاقت وغلبہ، شدت ، سخت بارش۔ الْخَنَعُ:ذلت۔الْیَراعُ:چرواہے کی بانسری ، بے وقوف، بزدل ۔یہاں آخر ی دو نوں معنیٰ مراد ہوسکتے ہیں۔جھاڑی، شتر مرغ، نر سل کا قلم۔
5۔۔۔۔۔۔

         سَبِیْلُ الْمَوْتِ غَا یَۃُ کُلِّ حَیٍّ                    فداعِیْہِ لِاَھْلِ الْاَرضِ دَاعٖ
ترجمہ:

    موت کا راستہ ہر زندہ کی انتہاء ہے ،لہذاموت کو بلانے والاتمام اہل زمین کو پکارنے والاہے۔
ملے   خاک   میں  اہل  ِ  شان   کیسے  کیسے             مکیں    ہوگئے    لامکاں    کیسے    کیسے

ہوئے    نامور   بے   نشان   کیسے   کیسے             زمین   کھا   گئی نوجواں    کیسے   کیسے 

جگہ   جی    لگانے  کی   دنیا   نہیں  ہے            یہ عبرت  کی  جا  ہے   تماشا  نہیں ہے

جہاں میں ہیں عبرت کے ہر   سُو نمونے             مگر  تجھ   کو  اندھا   کیا  رنگ  و بو نے

کبھی   غور  سے  بھی   دیکھا  ہے تو نے              جو  آباد  تھے  وہ محل  اب ہیں  سُونے 

جگہ    جی   لگانے   کی  دنیا   نہیں  ہے              یہ  عبرت  کی  جا  ہے  تماشا  نہیں ہے
Flag Counter