Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
90 - 324
وَیْحَکَ:تجھ پر ہلاکت ہو۔
وَیْحٌ لہ، ووَیْحًا لہ،:
اس بیچارے کاکتنا برا حال ہے یاوہ کتنا بد بخت ہے، وہ بہت خوب ہے، اس کاناس ہو،اس کابیڑاغرق ہو۔
تُرَاعِی:راع منہ(ن)رَوْعًا:
کسی سے ڈرنا۔راعہ، الامرُ: ڈرانا۔گھبرادینا، تعجب میں ڈال دینا۔
2۔۔۔۔۔۔

         فَاِنَّکِ لو سَاَلْتِ بَقَاءَ یَوْمٍ                 علَی الْاَ جَلِ الَّذِیْ لَکِ لم تُطَاعِی
ترجمہ:

    کیونکہ اگر تو اس وقت مقررہ پرجوتیرے لئے ہے ایک دن کی بقاء کا بھی سوال کرے تو تیری بات نہیں مانی جائے گی۔
            موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی 

            ہے  یہ  شام  ِ زندگی ،صبح ِ  دوام ِ  زندگی
حل لغات:
    بَقَاءٌ:وجود،بقاء۔اَ لْاَجَلُ:مدت، وقت، موت۔
فی القرآن المجید:
 ( وَ لَنۡ یُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا  ) (73/11)
ج:آجالٌ۔ تُطَاعِی:طاع فلانٌ(ن)طَوْعًا:
تابعدار ہونا ،فرماں بردار ہونا،اشارے پر چلنا۔
3۔۔۔۔۔۔

       فَصَبْرًا فی مَجَالِ الْمَوْتِ صَبْرًا                   فَمَا نَیْلُ الْخُلُوْدِ بِمُسْتَطاعٖ
ترجمہ:

    تو موت کے میدان میں صبر ہی کرکیونکہ ہمیشہ کی زندگی کا حصو ل بس میں نہیں۔
             کلبہ ءِافلاس  میں  دولت  کے  کاشانے  میں  موت

             دشت ودر میں، شہر میں، گلشن میں، ویرانے میں موت
حل لغات:

    صَبْرٌ:قوت برداشت،تحمل ، جفاکشی، ہمت ودلیری، تکلیف سہنے کا جذبہ یاطاقت، محبوب چیز سے رکے رہنے کی پابندی، قید، کہتے ہیں :
''قَتَلَہٗ صَبْرًا'':
اسے قید کرکے مار دیا، یعنی قید میں اتنا بھوکا پیاسا رکھا کہ وہ مر گیا۔شَھْرُ الصَّبْرِ:ماہ رمضان ۔یَمِیْنُ الصَّبْرِ:لازمی یا جبری قسم۔مذکورہ معانی بفتح ا لصاد و سکون الباء کی حالت میں ہیں نیز اس کی حرکات و سکنات مختلف ہونے سے معانی بھی مختلف ہوجاتے ہیں۔مَجَالٌ:چکر لگانے کی جگہ، میدانِ کار ، گنجائش، دائرہ عمل،سرگرمی کا مرکز، موقعہ۔ج:مَجَالات۔نَیْلٌ:حاصل ہونے والی چیز، حصول۔
''اَصابَ من عدوِّہٖ نیلًا '':
اس نے دشمن سے اپنا انتقام لے لیا۔
نال الشیءَ(س )نَیْلاً:
پانا، حاصل کرنا۔
 ( لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی
Flag Counter