Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
89 - 324
لوگوں سے کم میلاپ ہوتاہے جس طرح کہکشا ں اپنا راستہ جا نتی ہے اسی طرح یہ بھی اپنے راستوں سے واقف ہے ، دوسری یہ کہ وہ اکثر غارت گری اور لوٹ مار کرتارہتاہے جس کی وجہ سے اس کے دشمن زیادہ ہیں لہذاوہ تنہائی میں ہی عافیت سمجھتاہے ۔

حل لغات:

    اَلْوَحْشَۃُ:خلوت، خوف، یا تنہائی کی وجہ سے طبعیت کا انقباض، عدم انسیت،لوگوں سے بیزاری ، دوری، قساوت قلبی۔
اَلْاُنْسُ:اُنسیت ۔انس بہ والیہ(س)اُنْسًا:
مانوس ہونا،سکون محسوس کرنا،محبت ہونا۔یھتدی:ہدایت پانا، ہدایت چاہنا ، ہدایت پر قائم رہنا۔ام:ماں۔
فی القرآن المجید۔
 (قَالَ یَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلَا بِرَأْسِیْ) (20/94)
دادی، جڑ، اصل۔
ج:اُمُاتٌ واُمُھَّاتٌ۔
 (وَأُمَّہَاتُ نِسَآئِکُمْ)(4/23)
ام النجوم:ستاروں کی کہکشاں۔
الشوابک:مف:شَابِک:
پیچیدہ ،پر پیچ۔
وقا ل قطری بن الفجاء ۃ (الوافر)
شاعرکاتعارف :
شاعر کانام:قطری بن فجاء ۃ ہے (متوفی 78ھ/697ء) (اوربعض نے77ھ لکھاہے)یہ سرداران ِخوارج سے ہے اور یہ خطیب،شہسواراورشاعر تھا۔ قطری :اس میں ''ی ''نسبت کی ہے ،شہر" قطر "کی طرف منسوب ہے جو"بحرین "اور"عمان"کے درمیان واقع ہے۔ شاعر کے والد کانام''فجاء ۃ''اس طرح پڑا کہ وہ"یمن "گئے تھے اور اچانک آگئے تو لوگوں نے کہا ''فُجاءَ ۃ ''(اچانک)تو ان کانام ہی''فُجاءَ ۃ ''پڑگیا۔
1۔۔۔۔۔۔

       اَقُوْلُ لھا وقد طَارَتْ شَعَاعًا               مِنَ الْاَبْطالِ وَیْحَکِ لا تُرَاعِی
ترجمہ:

    میرا نفس (دل)بہادروں کے ڈر سے ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگا تو میں نے اس سے کہا:تجھ پر افسوس!مت ڈر ۔
حل لغات:
    طَارَتْ:طارالطائرُونحوُہ، (ض)طَیْرًا:
اپنے پروں کو ہلاکرہوا میں بلند ہونا۔
طارت نفسُہ، شعاعاً:
بے چین وپریشان ہونا۔ شَعَاعًا:شَعَاعٌ:متفرق ومنتشر ۔ کہتے ہیں:
دمٌ شَعَاعٌ۔ذَھَبَتْ نَفْسُہ، او قلْبُہ، شَعَاعًا۔
اس کادل پریشان اورذہن منتشر ہوگیا ۔
الابطال:مف:اَلْبَطَلُ:
دلیر وبہادر ہونا، سورما، ہیرو ، میرافسانہ، شہ سوار، ممتاز کھلاڑی ۔ وَیْحٌ:رحم وترس کھانے کا کلمہ ۔کبھی مدح اور تعجب کے موقع پر آتاہے اور کبھی ویل کے معنی بھی دیتا ہے۔
Flag Counter