Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
87 - 324
ہوجاتاہے ۔اس شعر میں نیندکی حالت کو بیان کیاہے ۔
حل لغات:
    حَاصَ:الثوبَ(ن)حَوْصًا:
سلائی کرنا، دوردور ٹا نکے لگانا۔ کَرٰی:نیند، اونگھ ۔
ج:اَکراء۔ یزل: زال(ن)زوالاً:
جاتارہنا، پھر جانا، الگ ہونا، ہلاک ہونا، سست پڑنا ، ناپید ہونا، ختم ہونا۔
فی القرآن المجید:
 (أَوَلَمْ تَکُونُواْ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَکُم مِّن زَوَالٍ)(14/44)
کالیئ:فا،کلأ اللہُ فلانا(ف)کَلأً:
حفاظت کرنا۔
(قُلْ مَن یَکْلَؤُکُم بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ)(21/42)
الشَّیحان:لمبا،غیرت مند ، ہوشیار ،
شاح علی حاجتہ(ض)، شَیْحًا:
چوکنا رہنا، چوکس ہونا، کوشش کرنا، ڈرنا۔ فَاتِکٌ:دلیر، بہادر، بے دھڑک ، مہلک ۔ج :فُتّاکٌ۔
7۔۔۔۔۔۔

       ویَجْعَلُ عَیْنَیْہِ رَبِیْئَۃَ قَلْبِہٖ           اِلٰی سَلَّۃٍ مِنْ حَدِّ اَخْلَقَ صَائِک
ترجمہ:

    اور اپنی آنکھوں کو اپنے دل کا محافظ بناتاہے بے نیام خون جمی ہوئی چکنی تلوار کی دھار کی طرف ۔    

مطلب:

     اس کی آنکھو ں کی بیداری کو تشبیہ دی ہے مقدمۃ الجیش سے ، جس طرح مقدمۃالجیش آنے والے خطرے سے آگاہ کرتاہے اسی طرح اس کی آنکھیں دل کوخطرے سے آگاہ کردیتی ہیں اور خون آلود تلوار ہمہ وقت اس کے ساتھ رہتی ہے ۔اس شعر میں حالت بیداری کو بیان کیاہے۔
حل لغات:
     رَبِیْئَۃٌ:فوج کادید بان، ہر اول دستہ۔
ج:رَباَیَا۔سَلَّۃٌ:
اسم مرہ ، ایک بار تلوار سونتنا، ایک جنبش، تلوار کی برآمدگی ، حرکت، چوری، گھوڑے کی ایک دوڑ، ٹوکری، کنڈی ۔
ج:سِلالُ،۔حَدٌ:
سرحد،کسی چیز کی حدود،چار دیواری،انتہاء،آخری حصہ،کنارہ،دھار، تیزی، جوش،غضبی کیفیت،غصہ، تعریف، مجرم کیلئے شرعًاواجب ہونے والی مخصوص سزا۔ج:حُدُوْدٌ ۔دوچیزوں کے درمیان کی نوک، چیز کی انتہا۔
فی القرآن المجید:
 (وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ)(65/1)
الحد من السیف:
تلوارکی دھار۔
اخلق:خَلِقَ الشیءُ(س)خَلَقًا:
چکناوملائم ہونا، نرم ہونا۔ الثوبُ:پرانا ہونا۔یہاں یہ دونوں معانی مراد ہو سکتے ہیں ، ہموار ہونا۔
صَائِکٌ:صاک بہٖ المسکُ ونحوُہ، (ن)صَوْکًا:
مشک کا چپکنا،لگنا۔
صئِکَ الدمُ(ض)صَأَکًا:
خون کا خشک ہونا، بہٖ:چپکنا۔
Flag Counter