Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
86 - 324
 (30/17)
جحیشا:رجل جحیش:
مستقل رائے والا مرد۔
یعروری:(افعیعال)، اِعْرَوْرَی الفَرَسَ:
ننگی پیٹھ پر سوار ہونا:الرَّجُلُ:تنہاسفر کرنا۔ظُھُوْرٌ:مف:الَظَّھْر:پیٹھ، اوپر کا بیرونی حصہ۔ اَلْمَھَالِکُ:مف:اَلْمَھْلِکَۃُ:لام پر تینوں حرکتیں درست ہیں ، ہلاکت کی جگہ، ریگستان،بیابان۔
5۔۔۔۔۔۔

          وَیَسْبِقُ وَفْدَ الِیْحِ مِنْ حَیْثُ یَنْتَحِیْ            بِمُنْخَرِقٍ مِنْ شِدَّۃِ الْمُتَدَارِکٖ
ترجمہ:

    جدھر بھی رخ کرتاہے ہو اکے اگلے حصے سے سبقت لے جاتاہے مسلسل چلنے کی وجہ سے پھٹے ہوئے لباس میں۔

مطلب: 

    ممدوح کی سبک رفتاری کو بیا ن کرنا مقصودہے اور جو تیز چلتاہے اس کا لباس (خصوصا شلوار)ہوا یادیگر اشیاء سے ٹکرانے اورکثرت سفر کی وجہ سے پھٹ جاتاہے ۔
حل لغات:
    یسبق:سبق الی کذا(ض)سَبْقًا:
کسی چیز کی طر ف کسی سے آگے بڑھنا ۔ علی قومہ:کرم وسخاوت میں سب سے بڑھ جانا۔علی کذا:غالب ہونا۔
سابق الی الشیئ:
کسی شیء کی طرف دوڑنا، جلدی سے آنا۔
فی القرآن المجید:
 (سَابِقُوا إِلَی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ) (57/21)
استبقوا الی الشیئ:
کسی شیء کی طرف پہنچنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنا۔
 (وَاسُتَبَقَا الْبَاب)(12/25)
عربی مقولہ ہے:
''سَبَقَ سَیْلُہٗ مَطَرَہ،''۔
اس کا سیلاب اس کی بارش سے پہلے آگیا،یعنی نفع سے پہلے نقصان ہوگیا۔ وَفْدٌ:آدمیوں کی جماعت جو مشتر کہ کام کے لئے بھیجی جائے ، وفد۔ج:وُفُود۔الریح:ہوا،ج:اَرْیَاح:بُو، اچھی چیز ، رحمت، مدد، قوت ، غلبہ۔
ینتحی انتحاءً الشیئَ:
قصد وارادہ کرنا،لہ،:کسی پر اعتماد کرناااور اس کی طرف جھکنا۔
منخرق:فا(انفعال)،
تیزرفتار۔
انخرق الشیئُ:
پھٹنا۔
اَلْمُتَدَارِکُ:(تفاعل)، تَدَارَکَ القومُ:
ایک کا دوسرے سے آملنا۔
6۔۔۔۔۔۔

      اِذَا حَاصَ عَیْنَیْہِ کَرَ ی النَّوْ مِ لم یَزَل          لَہٗ کا لِیءٌ مِنْ قَلْبِ شَیْحَانَ فَاتِکٖ
ترجمہ:

    جب اونگھ اس کی آنکھیں بند کرتی ہے تو ہوشیاربہادر آدمی کادل اس کی حفاظت کرتا رہتاہے۔

مطلب:

     جب وہ سوتاہے تو اس کا دل نہیں سوتا بلکہ جسم کی حفاظت کررہاہوتاہے اگر معمولی خطرہ محسوس ہو تو فورا بیدار
Flag Counter