Brailvi Books
 |
دِيوانِ حماسه |
( وَلَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوۡنِ ) (2/41)
کمیاب، دبلے جسم کاآدمی، معمولی۔شعر میں ''عدم''کے معنی میں ہے ۔
ج:اَقِلاء وقُلُلُ،۔ اَلتَّشَکِّیْ:مص،(تفعل) تَشَکّٰی واِشْتَکٰی:
بیمار ہونا۔ الیہ:شکایت کر نا ۔
(وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللہِ)(58/1)
اَلْمُھِمُّ:سخت وتشویش ناک معاملہ، قابل توجہ مسئلہ ، اہم وضروری کام، غور وفکر کاحامل معاملہ، مشغول کرنے والا معاملہ۔
ج:مَھَامُّ۔ یُصِیْبُ:اَصَابَ:
آدمی کا حق بجانب ہونا، قول وفعل میں صحیح وٹھیک ہونا۔ الشیئَ:پالینا، الخَطْبُ فلانا:کسی پر مصیبت آنا، الرجل:لاحق ہونا۔
( قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَنَا )(9/41)
کَثِیْرٌ: بہت، وافر،زیادہ۔
(یضل بہ کثیراویھدی بہ کثیرا)(2/26)
اَلْھَوٰی:مصدرمبنی للمفعول، میلان، محبت،عشق، خیروشر دونوں میں، خواہش نفس۔
(مَنِ اتَّخَذَ إِلَہَہُ ھَوَاہُ)(25/43) (فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْہَوَی)(5/135)
خواہش مند طبعیت، محبوب وپسندیدہ چیز۔
(وَلاَ تَتَّبِعُوْا أَھْوَاء قَوْم)۔ (5/77)
منتشرومتفرق، مختلف، بکھراہوا۔
(إِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتَّی) (92/4)
اَلنَّوٰی:مصدر مبنی للمفعول،
فی الحدیث:((انما الاعمال با لنیات)) اَلنَّوٰی:
دوری، سفر، پردیس، منزلِ سفر، وہ جگہ جہاں کامسافر ارادہ کرے قریب ہویادور، گھر، گٹھلیاں ۔
اَلْمَسَالِکُ:مف:مَسْلَکٌ:
راستہ ، کسی جماعت کا مخصوص طریقہ،روش، پانی کاراستہ۔
ایک چیز کو دوسری چیز میں داخل کرنا۔
(مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ) (74/42)
4۔۔۔۔۔۔
یَظَلُّ بِمَوْمَاۃٍ ویُمْسِیْ بِغَیْرِھَا جَحِیْشًا وَیَعْرَوْرِیْ ظُھُوْرَالْمَھَالِکٖ
ترجمہ:
وہ صبح کو ایک بے آب وگیاہ جنگل میں ہوتا ہے تو شام کوکسی دوسرے میں، وہ پرعزم ہے اور ہلاکتوں کی ننگی پیٹھ پر سواری کرتاہے ۔
بجلی ہوں ، نظر کوہ و بیاں پہ ہے میری
میرے لئے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے
حل لغات:
مَوْمَاۃٌ:وسیع بیابان یالق ودق صحراء،جنگل ۔
ج:مَوَامِیْ۔ یمسی:امسی القومُ:
شام کے وقت میں داخل ہونا۔اصبح کی ضدہے ۔
(فَسُبْحَانَ اللہِ حِیْنَ تُمْسُونَ وَحِیْنَ تُصْبِحُون)