( وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا )(19/25)
نشاط وفرحت محسوس کرنا،ہشاش بشاش ہونا،موڈمیں ہونا۔اھتز:ہلنا، جھومنا۔
( فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ ؕ یٰمُوۡسٰۤی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۟ اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیۡنَ )(28/31)
ندوۃ:اسم مرہ، ایک دفعہ کا اجتماع، جماعت، مجلس ، سخاوت، مشورہ۔ دَارُالنَّدْوَۃِ:زمانہ جاہلیت میں"مکہ مکرمہ"ـمیں قیریش کا دارلمشورہ اسی نام سے موسوم تھا جسے قصی بن کلاب نے بنایا تھا بعد میں اس کے لڑکے سے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے خرید کر دَارُالْاِمَارَۃِ (گورنرہاؤس)بنادیا۔ اَلْحَیُّ:زندہ ، زندہ دل، باقی۔فعال، متحرک، تا زہ، محلہ ، قبائل میں سے چھوٹاقبیلہ۔ ج:اَحْیَاءٌ۔عِطْفٌ:بغل، کنارہ، انسان کے سرسے کُولہے تک کا حصہ۔
(ثَانِیَ عِطْفِہِ لِیُضِلَّ عَن سَبِیْلِ اللہ)(22/9)
الھجان:خالص عمدہ چیزیں، اعلی نسل کے سفید اونٹ ، مذکر، مؤنث اورمفرد وجمع کے لئے۔الأوارک:مف،الَأِراک:پیلو کا درخت ۔ أرک:(ن،ض)اُرُوْکًا، الجملُ:اونٹ کا پیلو کے درخت کے پتے کھانا۔
3۔۔۔۔۔۔
قَلِیْلُ التَّشَکِّیْ لِلْمُھِمِّ یُصِیْبُہ، کَثِیْرُ الْھَوٰی شَتَّی النَّوٰی وَالْمَسَالِکٖ
ترجمہ:
اپنے اوپرآنے والی بڑی بڑی مصیبتوں کی شکایت نہیں کرتا، زیادہ خواہشات، مختلف نیتوں اور راستوں والا ہے۔
مطلب:
انتہائی مستقل مزاج ہے کہ کسی مشکل کی شکایت نہیں کرتا اور ایسا باہمت ہے کہ اس کا فقط ایک مقصد نہیں، بلکہ اس کے مقاصدزیا دہ ہیں اور ان کے حصول کے لئے بڑی کوشش کرتا ہے ۔