Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
83 - 324
     		    ہو حلقہ یاراں تو  بریشم کی طرح نرم

  		    رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن
حل لغات:
     یَحْمِیْ :حمی الشیءُ فلانًا(ض)حَمْیاً۔
حفاظت کر نا، بچانا۔عربی مقولہ ہے:
''رُبَّ حَامٍ لِاَنْفِہٖ وَھُوَجَادِعُہ،''۔
بہت سے اپنی نا ک بچانے والے دراصل اسے کا ٹنے والے ہوتے ہیں۔ عَظِیْمَۃٌ: مصیبت،آفت، مشکل معاملہ۔
ج:عَظَائِمُ۔ نزلوا:نزل(ض)نُزُوْلاً:
اترنا ، اوپر سے نیچے آنا۔
فی القرآن المجید:
 (وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاہُ وَبِالْحَقِّ نَزَل)(17/105)
عن الامر والحقِ:
کسی معاملہ یاحق کوچھوڑنا،دست بردار ہونا۔بالمکان و فیہ:قیام کرنا۔علی القومِ:کسی قبیلہ یاجماعت کامہمان بننا۔ عربی مقولہ ہے:
''اِذَانَزَلَ بِکَ الشَّرُّ فَاقْعُدْ'':
جب تجھ پر برائی آئے تو بیٹھ جا۔ مَاْئوٰی:اسم ظرف ، پناہ گاہ ، ٹھکانہ۔ ج:مآوٍ۔
 (قَالَ سَآوِیْ إِلَی جَبَلٍ یَعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَاءِ)(11/43)
الْعُیَّلُ:مف۔ عَائِلٌ:محتاج ہونا، کثیر العیال ہونا۔
وَقَالَ تَاَبَّطَ شَرًّا (الطویل)
اشعا رکا پسِ منظر:
    اس کے چچا کے بیٹے یعنی شمس بن مالک نے اسے عمدہ اونٹ تحفے میں پیش کئے، تو شاعر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ اشعار کہے:
1۔۔۔۔۔۔

       انی لمُھْدٍ مِنْ ثَنَائِیْ فَقَاصِدٌبِہٖ                  لِابْنِ عَمِّ الصِّدْقِ شَمْسِ بْنِ مِالِکٖ
ترجمہ:

    میں اپنی تعریف کا ہدیہ پیش کررہا ہوں اس کے ساتھ ارادہ کرتاہوں اپنے چچا کے سچے بیٹے شمس بن مالک۔
حل لغات:
    مُھْدٍ:فا،(افعال)اھدَی الھَدِیَّۃَ الیٰ فلانًا ولہ،:
اعزازاً کسی کوہدیہ یا تحفہ دینا۔ثَنَاءٌ: تعریف،مدح،شکریہ۔ج:اَثنِیَۃٌ ۔ اَلصِّدْقُ:سچ، فضیلت، سختی، مضبوطی، صلاح ۔شعرمیں پہلے تینوں معانی مراد ہوسکتے ہیں ۔
فی القرآن المجید:
 (وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنکَ سُلْطَاناً نَّصِیْرا)(17/80)
عربی مقولہ ہے:
''الصِدقُ یُنبِیءُ عنک لا الوعیدُ'':
عمل کی سچائی تمہاری خبر دے گی نہ کہ دھمکی، یعنی دشمن کا سچا مقابلہ شجاعت ظاہر کر ے گانہ کہ خالی دھمکی ۔
2۔۔۔۔۔۔

        اَھُزُّ بِہٖ فِیْ نَدْ وَۃِ الْحَیِّ عِطْفَہ،             کَمَا ھَزَّ عِطْفِیْ بِالْھِجَانِ الْاَوَارِکٖ
Flag Counter