''رُبَّ حَامٍ لِاَنْفِہٖ وَھُوَجَادِعُہ،''۔
بہت سے اپنی نا ک بچانے والے دراصل اسے کا ٹنے والے ہوتے ہیں۔ عَظِیْمَۃٌ: مصیبت،آفت، مشکل معاملہ۔
ج:عَظَائِمُ۔ نزلوا:نزل(ض)نُزُوْلاً:
اترنا ، اوپر سے نیچے آنا۔
(وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاہُ وَبِالْحَقِّ نَزَل)(17/105)
کسی معاملہ یاحق کوچھوڑنا،دست بردار ہونا۔بالمکان و فیہ:قیام کرنا۔علی القومِ:کسی قبیلہ یاجماعت کامہمان بننا۔ عربی مقولہ ہے:
''اِذَانَزَلَ بِکَ الشَّرُّ فَاقْعُدْ'':
جب تجھ پر برائی آئے تو بیٹھ جا۔ مَاْئوٰی:اسم ظرف ، پناہ گاہ ، ٹھکانہ۔ ج:مآوٍ۔
(قَالَ سَآوِیْ إِلَی جَبَلٍ یَعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَاءِ)(11/43)
الْعُیَّلُ:مف۔ عَائِلٌ:محتاج ہونا، کثیر العیال ہونا۔
وَقَالَ تَاَبَّطَ شَرًّا (الطویل)
اس کے چچا کے بیٹے یعنی شمس بن مالک نے اسے عمدہ اونٹ تحفے میں پیش کئے، تو شاعر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ اشعار کہے:
1۔۔۔۔۔۔
انی لمُھْدٍ مِنْ ثَنَائِیْ فَقَاصِدٌبِہٖ لِابْنِ عَمِّ الصِّدْقِ شَمْسِ بْنِ مِالِکٖ
ترجمہ:
میں اپنی تعریف کا ہدیہ پیش کررہا ہوں اس کے ساتھ ارادہ کرتاہوں اپنے چچا کے سچے بیٹے شمس بن مالک۔
مُھْدٍ:فا،(افعال)اھدَی الھَدِیَّۃَ الیٰ فلانًا ولہ،:
اعزازاً کسی کوہدیہ یا تحفہ دینا۔ثَنَاءٌ: تعریف،مدح،شکریہ۔ج:اَثنِیَۃٌ ۔ اَلصِّدْقُ:سچ، فضیلت، سختی، مضبوطی، صلاح ۔شعرمیں پہلے تینوں معانی مراد ہوسکتے ہیں ۔
(وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنکَ سُلْطَاناً نَّصِیْرا)(17/80)
''الصِدقُ یُنبِیءُ عنک لا الوعیدُ'':
عمل کی سچائی تمہاری خبر دے گی نہ کہ دھمکی، یعنی دشمن کا سچا مقابلہ شجاعت ظاہر کر ے گانہ کہ خالی دھمکی ۔
2۔۔۔۔۔۔
اَھُزُّ بِہٖ فِیْ نَدْ وَۃِ الْحَیِّ عِطْفَہ، کَمَا ھَزَّ عِطْفِیْ بِالْھِجَانِ الْاَوَارِکٖ