Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
80 - 324
زمین سے لپٹا ہو ا نہیں ہوتا ۔

مطلب:

     جب وہ سوتا ہے توچت لیٹ کریا پھیل کر نہیں سوتا ؛کیو نکہ اس طرح غفلت کی نیند طاری ہوجاتی ہے بلکہ پہلو کے بل لیٹتاہے۔
حل لغات:
     یَمَسُّ:مَسَّ الشیءَ (ن،س)مَسًّا:
چھونا،ہاتھ لگانا۔
فی القرآن المجید:
 (لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الْمُطَہَّرُوۡنَ )(56۔ 79)
مَنْکِبٌ:کندھا،گو شہ ، ہر چیز کا کنارہ، پہلو ، زمین کا بلند حصہ، سردار قوم۔ج: مَنَاکِبٌ۔
( فَامْشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا وَ کُلُوۡا مِنۡ رِّزْقِہٖ ؕ وَ اِلَیۡہِ النُّشُوۡرُ  )(67/15)
طَیّاً:مص،طوَی الشَّیءَ (ض)طَیًّا:
موڑنا،طے کرنا،لپیٹنا۔
 ( یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ  )(21/104)
اَلْمِحْمَلُ:تلوار کاپرتلہ۔ ج:مَحَامِلُ۔
5۔۔۔۔۔۔  

        وَاِذَا رَمَیْتَ بِہِ الْفِجَاجَ رَاَئیْتَہ،                یَھْوِیْ مَخَارِمَھَا ھُوِیَّ الْاَجْدَلٖ
ترجمہ:

    اور جب تو اسے پہاڑی کشادہ راستوں میں چھوڑآئے تو دیکھے گا کہ وہ پہاڑکی چوٹیوں پر شکرے کے جھپٹنے کی طرح چڑھ جائے گا۔

مطلب:

    اس شعر میں شاعر نے ممدوح کے نیچے سے تیزی کے ساتھ اوپرچڑھنے کو باز کے تیزی کے ساتھ اپنے شکار پربلندی سے جھپٹنے سے تشبیہ دی ہے، یعنی ممدوح کا تیزی سے اوپر چڑھنا مشبہ اور شکرے کاشکار کی طرف تیزی سے لپکنا مشبہ بہ اور سرعت رفتار وجہ تشبیہ ہے ۔
                جھپٹنا  پلٹنا  پلٹ کر  جھپٹنا

                لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
حل لغات:
     رَمَیْتَ:رَمَی الشیءُ(ض)رَماءً:
بڑھنا،زیادہ ہونا۔الشیءَ رَمْیًا:ہاتھ سے ڈالنا،پھینکنا۔
فی القرآن المجید:
 ( وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی ) (8/17)
عربی مقولہ ہے :
''رُبَّ رَمِیّۃٍ مِنْ غَیْرِ رَامٍ'':
کبھی تیر اندازی کا کام وہ بھی کرلیتا ہے جو تیر اندازی نہیں جانتا ۔
اَلْفِجَاجُ:مف، الفَجُّ،:
طویل کشادہ راستہ۔
Flag Counter