(لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الْمُطَہَّرُوۡنَ )(56۔ 79)
مَنْکِبٌ:کندھا،گو شہ ، ہر چیز کا کنارہ، پہلو ، زمین کا بلند حصہ، سردار قوم۔ج: مَنَاکِبٌ۔
( فَامْشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا وَ کُلُوۡا مِنۡ رِّزْقِہٖ ؕ وَ اِلَیۡہِ النُّشُوۡرُ )(67/15)
طَیّاً:مص،طوَی الشَّیءَ (ض)طَیًّا:
( یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ )(21/104)
اَلْمِحْمَلُ:تلوار کاپرتلہ۔ ج:مَحَامِلُ۔
5۔۔۔۔۔۔
وَاِذَا رَمَیْتَ بِہِ الْفِجَاجَ رَاَئیْتَہ، یَھْوِیْ مَخَارِمَھَا ھُوِیَّ الْاَجْدَلٖ
ترجمہ:
اور جب تو اسے پہاڑی کشادہ راستوں میں چھوڑآئے تو دیکھے گا کہ وہ پہاڑکی چوٹیوں پر شکرے کے جھپٹنے کی طرح چڑھ جائے گا۔
مطلب:
اس شعر میں شاعر نے ممدوح کے نیچے سے تیزی کے ساتھ اوپرچڑھنے کو باز کے تیزی کے ساتھ اپنے شکار پربلندی سے جھپٹنے سے تشبیہ دی ہے، یعنی ممدوح کا تیزی سے اوپر چڑھنا مشبہ اور شکرے کاشکار کی طرف تیزی سے لپکنا مشبہ بہ اور سرعت رفتار وجہ تشبیہ ہے ۔
جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
رَمَیْتَ:رَمَی الشیءُ(ض)رَماءً:
بڑھنا،زیادہ ہونا۔الشیءَ رَمْیًا:ہاتھ سے ڈالنا،پھینکنا۔
( وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی ) (8/17)
''رُبَّ رَمِیّۃٍ مِنْ غَیْرِ رَامٍ'':
کبھی تیر اندازی کا کام وہ بھی کرلیتا ہے جو تیر اندازی نہیں جانتا ۔
اَلْفِجَاجُ:مف، الفَجُّ،: