(فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُہَا وَکَذَلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِی)(20/96)
اَلْحَصَاۃُ:پتھری،سنگریزہ، کنکری، پتھریاں۔
ج:حَصَیَاتٌ،حُصِیٌّ۔یَنْزُو:نَزَا(ن)نَزْوً ا:
کودنا،اچھلنا۔علیہ:کسی پر گر کر اس کوروندنا،حملہ کرنا،جست لگاکر پہنچنا۔ بہ الشَّرُّ:کسی کا شرارت پر آمادہ ہونا۔ طُمُوْرٌ مص،طمر(ض)طُمُورًا:نیچے کی طرف چھلانگ لگانا، نیچے کودنا،اچھلنا۔اَ لْاَخْیَلُ:ایک بد شگونی کا پرندہ، سبز رنگ کا ایک پرندہ جس کے بازؤں پر دوسرے رنگ کا دھبہ ہوتاہے ، شاہین ، اکڑباز،متکبر۔
7۔۔۔۔۔۔
واِذَا یَھُبُّ مِنَ الْمَنَامِ رَأَیْتَہ، کَرُ تُوْبِ کَعْبِ السَّاقِ لَیْسَ بِزُمَّل
ترجمہ:
قاور جب وہ نیند سے بیدارہوتا ہے توتُو اسے پنڈلی کی ہڈی کی طرح سیدھا دیکھے گانہ کہ کمزور ۔
مطلب:
انسان جب نیند سے اٹھتاہے تو سست اور ڈھیلا ہوتاہے اور انگڑائیاں لیتا ہے لیکن ممدوح نیند سے اس طرح اٹھتاہے کہ کسی قسم کی سستی و کاہلی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔
یَھُبُّ:ھَبَّ مِنَ النَّوْمِ(ن)ھُبُوْبًا۔
کسی کا نیند سے جاگنا۔ الْمَنَامُ:نیند ،خواب ۔
(قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرَی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانظُرمَاذَا تَرَی)(37/102)
سونے کی جگہ۔ ج: مَنَامَات۔رُ تُوْبٌ:مص، رتب الشیءُ(ن)رُ تُوْباً:چیز کا اپنی جگہ بلا حرکت قائم وثابت رہنا،سیدھا کھڑا رہنا،دشوار جگہ پر ٹھہر جانا۔ کَعْبٌ:ٹخنہ،پنڈلی اورسر کاجوڑ،ہردوہڈیوں کاجوڑ،بانس یاگنے کے دو پو روں کے درمیان کی گرہ۔ السَّاقُ:پنڈلی،ٹانگ(مؤنث)درخت وغیرہ کاتناجس پر شاخیں نکلتی ہیں،
ج:سُوْقٌ، سِقَاقٌ،اَسْوُقٌ،
( فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ )
زُمَّلٌ:کمزور ،بزدل وکمینہ۔
8۔۔۔۔۔۔
مَا اِنْ یَّمَسُّ الْاَرْضَ اِلَّا مَنْکِب مِنْہُ وحَرْفُ السَّاقِ طَیَّ الْمِحْمَلٖ
ترجمہ:
(بحا لتِ نیند)زمین سے محض اس کا کندھااور اس کی پنڈلی کاکنارہ ہی چھوتا ہے ، وہ تلوار کے پرتلے کی طرح