Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
77 - 324
مطلب: 

    اس شعرمیں ممدوح کی تین خوبیاں بیان کی گئی ہیں ۔ایک یہ کہ وہ حیض کے بقیہ حصے سے پاک ہے یعنی اس کی ماں کے ساتھ حیض کے آخری ایام میں جماع نہیں کیا گیا بلکہ وہ طہر کی حالت میں حاملہ ہوئی ہے ۔دوسری یہ کہ وہ فسادِ مُرْضِعَہْ سے پاک ہے یعنی جس عورت نے اسے دودھ پلایا ہے اس سے دودھ پلانے کی حالت میں جماع نہیں کیا گیا؛کیونکہ عرب کا خیال تھا کہ مُرْضِعَہْ سے جماع کیاجائے تو اس کا دودھ خراب ہوجاتاہے ۔تیسری یہ کہ حَامِلَہْ عورت نے اسے دودھ نہیں پلایا ،عرب کا خیال تھا کہ حَامِلَہْ عورت اگر بچے کو دودھ پلائے گی تو وہ شہسوار نہیں ہوسکتا بلکہ گھوڑے سے گر پڑے گا۔
حل لغات:
    مُبَرَّ ءٌ:مفع (تفعیل)، بَرَّءَ ہ، مِنْ کَذَا:
بری کرنا،بے قصور و بے گناہ ٹھہرانا، سبکدوش کرنا، بیمار کو صحت یاب بنانا۔
فی القرآن المجید:
 (کَمَا تَبَرَّؤُواْ مِنَّا) (2/167)
غُبَّرٌ:ہر چیز کا آخری اور بقیہ، تھن میں باقی ماندہ دودھ اور بقیہ خون، حیض کے لئے اس کا زیادہ استعمال ہے ،
ج:غبرات۔حَیْضَۃٌ:الحِیضَۃُ:
حیض کا چیتھڑا، حیض کاخون۔حِیَضُ،۔ فَسَادٌ:بگاڑ،خرابی،تعفن،کرپشن،ابتری،قحط وخشک سالی۔
 (ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْر) ۔ (30/41)
''مَنْ فَسَدَتْ بِطَانَتُہ، کَانَ کَمَنْ غَصَّ بِالْمَاءِ":
جس کے اہل وعیال ہی بگڑ جائیں وہ اس کی طرح ہے جس کو پانی سے اُچھولگ جائے کہ اس کی کوئی تدبیر نہیں، کھاناحلق میں پھنس جائے توپانی سے اتار لیا جاتاہے، لیکن جب پانی ہی سے اچھو لگے تو کیا تدبیر کی جائے!؟
          کشتی  ہو طوفان  میں  تو  کام آتی ہیں  تدبیریں 

          اگر طوفان ہو کشتی میں تو کیا کام آئیں گی تدبیریں
مُرْضِعَۃٌ:فا، اَرْضَعَتِ الاُمُّ:
دودھ پیتے بچے والی ہونا،الوَلَدَ:دودھ پلانا۔
ھِیَ مُرْضِعٌ وَمُرْضِعَۃٌ۔ج:مَرَاضِعُ۔
 (وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْل)(82/12)
مُغْیِلٌ:صفت ، بچے کو حاملہ ہونے کی حالت میں دودھ پلانا۔
4۔۔۔۔۔۔

      حَمَلَتْ بِہٖ فِیْ لَیْلَۃٍ مَزْوُءوْدَۃ               کَرْھًا وعَقْدُ نِطَاقِھَا لَمْ یُحْلَلٖ
ترجمہ:

    اس کی ماں ڈراؤنی رات میں جبراً اس کے ساتھ حاملہ ہوئی اور اس کے کمر بندکی گرہ نہیں کھولی گئی تھی ۔
حل لغات:
    مَزْوُئوْدَۃٌ:مفع، زَاَدَہٗ (ف)،زَأْدًا:
ڈرانا، گھبرانا۔
لَیْلَۃٌ مَزْوُئوْدَۃٌ:
ڈراؤنی رات،
کُرْھٌ،وکَرْھٌ:مص، جبراً
Flag Counter