اور وہاں سے روٹی اٹھاکر ابو کبیر کے پاس لے کر آیا اور کہا''کھا!اﷲتیرا پیٹ نہ بھرے ''ابو کبیر نے کھاناکھا نے کے بجائے حیران ہو کر کہا: ''ویحک''مجھے قصہ تو بتا!''تابط شرا''نے کہا :قصہ معلوم کرکے کیا کر ے گا تو کھاناکھا اور اس کے بارے میں مت پوچھ ، اس بات سے ابو کبیر پر دہشت طاری ہوگئی، کچھ دیر بعد تابط شرا نے جب واقعہ سنایا تو اس کی دہشت اوربڑھ گئی، پھر دونوں سفر کرتے رہے راستے میں کچھ اونٹ ان کے ہاتھ لگ گئے ، اب رات کو اونٹو ں کی حفاظت کے لئے سونے کی باریاں مقرر کیں کہ آدھی رات ایک سوئے گا اور دوسرا چوکیداری کریگا۔ جب ابو کبیر سوتا تو تابط شراپہرہ دیتا لیکن جب تابط شراسوتا تو ابو کبیر بھی سو جاتاتین راتیں اس طرح گزر گئیں جب چوتھی رات ہوئی تو ابو کبیر سمجھا کہ آج لڑکے پر نیند کا خوب غلبہ ہے رات کانصف اول ابو کبیر نے نیند کی جب نصف اخیر میں تابط شراسویا اور ابو کبیر نے سمجھ لیا کہ اب اس پر خوب نیند کا نشہ طاری ہے اور قتل کا بہترین موقع ہے تو اس نے آزمانے کے لئے چھوٹی سی کنکری اٹھائی اور تابط شرا کی طرف پھینکی تووہ بڑی چستی سے ا ٹھ گیا اور کہا یہ کیا ہے!ابو کبیر نے کہا مجھے نہیں معلوم اﷲ کی قسم! یہ آواز اونٹوں کی طرف سے آئی ہے تو تابط شراوہاں گیا چکر لگایا کوئی چیز نظر نہیں آئی تو واپس آکر سوگیاپھر جب ابو کبیر نے سمجھا کہ اس پر نیند کا غلبہ ہے تو پہلی سے چھوٹی کنکری اٹھائی اور اس کی طرف پھینک دی تو وہ پہلے کی طرح فورا اٹھ گیا اور کہا یہ میں کیا سن رہا ہوں توابو کبیر نے کہا :اﷲ کی قسم! مجھے معلوم نہیں، جس طرح تم نے سنا میں نے بھی اس طرح سنا ہے ،شاید کسی اونٹ نے حرکت کی ہو تو وہ اونٹوں کی طرف گیا لیکن کوئی چیز نظر نہیں آئی تو واپس آکر سوگیاپھر ابوکبیر نے اس سے بھی بہت چھوٹی کنکری اٹھاکر پھینکی تو وہ پہلے کی طرح فورا اٹھ گیااور اونٹوں کا جا ئزہ لیا لیکن کچھ نظر نہیں آیاتوا بو کبیر کی طرف واپس آکر کہنے لگا،مجھے لگتا ہے کہ تیری نیت خراب ہے، اﷲ کی قسم! ا ب اگر ایسا ہوا تو میں تجھے قتل کردوں گا۔ راوی کا کہنا ہے کہ ابو کبیر نے کہا اﷲ کی قسم !میں رات کا بقیہ حصہ چوکیداری کرتارہا اس خوف سے کہ کہیں کو ئی اونٹ حرکت کرے اور وہ مجھے قتل نہ کردے ۔جب وہ واپس آئے تو ابو کبیر نے کہا: میں اس عورت کے قریب کبھی بھی نہیں جاؤں گا اور اس موقع پر لڑکے کی تعریف کرتے ہوئے اس نے یہ اشعار کہے :