Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
74 - 324
حل لغات :
    اُبْتُ:آبَ الیہ(ن)اَوْباً:
لوٹنا۔منَ السَفرِ:سفر سے واپس ہونا۔ الماءَ:رات کے وقت پانی پر اترنا۔
اُبْتُ بَنِی فُلاَن ٍ:
میں ان کے پاس رات کے وقت آیا۔ اِلَی اللہِ:توبہ کرنا،اﷲتعالی کی طرف رجوع کرنا۔فَارَقْتُ:(مفاعلۃ)فارقہ،:علیٰحدگی وجدائی اختیارکرنا۔
تَصْفِرُ۔صَفَرَ(ض)صَفِیْرًا:
ہونٹوں سے سیٹی بجانا،ہونٹوں سے باریک آواز نکالنا۔صَفَرَ بِہٖ:سیٹی بجاکربلانا۔
وَقَالَ اَبُوْ کَبِیْرٍ اَلْھُذَلِیُّ (الکامل)
شاعر کانام:

     ابوکبیرعامر بن حلیس ہے، یہ مخضرمی شاعر ہیں،زمانہ اسلام پایا اور دولت اسلام سے سرفراز ہوئے۔"شرح مرزوقی"کے حاشیہ میں ہے
''أدرک الإسلام وأسلم''
اور بیروت کے نسخے میں ہے:
''قیل ھو مخضرم أدرک الإسلام وأسلم''
لیکن یہ مستبعدہے کیونکہ یہ تابط شر ًا کے سوتیلے باپ ہیں اور تابط شَرّاً کی تاریخ وفات80ق۔ھ/540ء ہے۔
اشعا ر کاپس منظر:
    ابو کبیرہذلی نے تابط شرا کی ماں سے شادی کی اس وقت تابط شراچھوٹا بچہ تھا جب تابط شرانے ابو کبیر کو اپنی ماں کے پا س کثرت سے آتے جاتے دیکھاتویہ اسے نا گوارگزرا اور ابو کبیر کو بھی اس کے چہرے سے ناگواری کے آثار معلوم ہو گئے معاملہ یوں ہی رہا یہاں تک کہ بچہ جوان ہوگیا، تو ابو کبیر نے اس کی ماں سے کہا مجھے اس لڑکے سے خطرہ محسوس ہورہاہے لہذا میں تیرے قریب نہیں آؤں گا،اس نے کہا کسی حیلہ بہانے سے اسے قتل کردو، پھر ایک دن ابو کبیر نے تابط شرا سے کہا کہ کیاتو لڑائی کے لئے چلے گا ؟اس نے کہا یہ تو میرا محبوب مشغلہ ہے، مجھے لے چلو۔دونوں زا دراہ لئے بغیر چل پڑے، ایک دن اور ایک رات سفر کرنے کے بعد ابو کبیر نے سو چا کہ لڑکے کو بھوک لگ گئی ہوگی، جب شام ہوئی تو ابو کبیر اپنی دشمن قوم کی طرف بڑھا ،جب دو ر سے آگ دکھائی دینے لگی تو ابو کبیر نے کہا: مجھے بھوک لگی ہے ،تم اس آگ کی طرف جاؤ اور ہمارے لئے کچھ لے کر آؤ۔ لڑکے نے کہا: ''وَیحک''تیری ہلاکت ہو،یہ بھی کوئی بھو ک کا وقت ہے !اس نے کہا مجھے تو بھو ک لگ رہی ہے میرے لئے کچھ لاؤ، تو''تابط شرا'' آگ کی طرف گیا اور دیکھا کہ عرب کے دو چو ر آگ تاپ رہے ہیں (جو رات کے وقت آگ کے پاس بیٹھا ہو تا ہے وہ دور سے آنے والے کو نہیں دیکھ سکتا جبکہ دور والا انہیں بآسانی دیکھ سکتاہے )''تابط شرا'' نے ان پر حملہ کیا اور فو را پیچھے ہٹ گیا ، اب وہ اس کی طرف لپکے، جو''تابط شرا''کے زیادہ قریب تھا پہلے اسے قتل کیا پھر دوسرے کی طرف جاکر اسے بھی قتل کردیاپھرآگ کے پاس آیا
Flag Counter