جب عالم پھسل جائے تو اس کے پھسلنے کی وجہ سے ایک جہان پھسل جاتاہے۔ الصفا:پتھر۔ج:صفاۃ۔جؤجؤ:سینہ کی ہڈیوں کے جمع ہونے کی جگہ ،جہاز یاکشتی کا اگلا حصہ ۔ج:جَآجِی۔ عَبْلٌ:ہر بڑی اور موٹی چیز ۔ ج:عِبالٌ۔ مَتْنٌ:کمر،پیٹھ (مذکرومؤنث)،دوستونوں کے درمیان کا حصہ ج:
مُتُوْنٌ ومِتانٌ۔ مُخَصَّرٌ:
باریک کمر والا۔کہاجاتاہے :مُخَصَّرُ الْقَدَمَیْن۔وہ ایسا شخص ہے جس کا تلوا زمین سے نہیں لگتا۔
8۔۔۔۔۔۔
فَخَالَطَ سَھْلَ الْاَرْضِ لَمْ یَکْدَحِ الصَّفا بہٖ کَدْ حَۃً وَالْمَوْتُ خَزْیانُ یَنْظُر،
ترجمہ:
تو سینہ نرم وہموار زمین سے اس حال میں ملا کہ چٹان سے معمولی خراش بھی نہ آئی اور موت ذلیل ورسوا ہوکر دیکھتی رہ گئی ۔
حل لغات:
خالط(مفاعلۃ)،خالطہ،:مل جل کررہنا،میل ملاپ کرنا،ساتھ رہنا ، صحبت رکھنا،راہ ورسم رکھنا،ربط وضبط رکھنا،مخلوط ہونا،مل جانا۔الداءُ:بیماری لاحق ہونا۔ سَھْلٌ:نرم،ہموار،آسان،معمولی،کشادہ اورمسطح زمین ۔
ج:سُھُولُ ،۔لَمْ یَکْدَحْ:کَدَحَ فی العملِ(ف)کَدْحًا:
محنت کرنا،مشقت اٹھانا،کمائی کرنا،ا نتھک کوشش کرنا۔وَجْہَ فلانٍ:کسی کامنہ نوچنا، خراش لگانا،بدنماداغ لگانا۔ خَزْیانُ:صیغہ صفت،مؤنث۔
خَزْیاءُ۔ج:خَزَایا۔خَزِیَ(ف)خَزَیً:
گرفتارِمصیبت ہونا،ذلیل وخوار ہونا،ہلاک ہونا۔فلانًاومِنہُ:شرم کرنا۔
ھو خَزْیانُ۔فی الحدیث:غَیْرَخَزَایَاوَلَا نَدَامیٰ۔ ینظر:نَظَرَ اِلیَ الشَّیْءِ(ن)نَظْرًا:
کسی چیز پرنگاہ ڈالنا،غورسے دیکھنا۔فی الامرِ:سو چنا،فکر کرنا،اندازہ کرنا۔ الشیئَ:انتظارکرنا۔بَیْنَ الناسِ:حکم کرنا،فیصلہ کرنا۔لِلْقومِ:رحم کرنا،ترس کھاکر مدد کرنا ۔ مدددینا۔ فلانًا:متوجہ ہونا۔فُلانًاالشیئَ:مہلت دینا۔
9۔۔۔۔۔۔
فَاُبْتُ اِلٰی فَھْمٍ وَلَمْ اَکُ آئِبًا وَکَمْ مِّثْلَھَا فَارَقْتُھَا وَھِیَ تَصْفِر،
ترجمہ:
اور میں قبیلہ فہم کی طرف لوٹ آیا حالانکہ میں لوٹنے والا نہیں تھا اور کتنی ہی اس جیسی مصیبتیں ہیں کہ میں ان سے جدا ہوا اور وہ سیٹیاں بجارہی تھیں۔