Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
72 - 324
ترجمہ:

    یہاں دو صورتیں ہیں قید اوراحسان(کرکے چھوڑ دینا)یا قتل ہونا اور قتل ہوناعالی نسب کی شان کے زیادہ لائق ہے۔

حل لغات:

    خُطَّتَا:اصل میں''خُطَّتَانِ''تھانون تثنیہ ضرورت شعری کی وجہ سے حذف کر دیاگیا۔ مف:خُطّۃُ،: خصلت،جہالت،مشکل معاملہ جس کا کوئی حل نہ ملے ۔ ج:خُطَطُ،۔اِسَارُ،:قید ،بندش،تسمہ جس سے قیدی کو باندھاجائے ۔
ج:اُ سُرٌ۔اَسِیْرٌ:
قیدی ۔
فی القرآن المجید:
 (وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً ویَتِیْماً وَأَسِیْراً)(76/8)
مَنَّۃٌ:مص،مَنَّ(ن):احسان جتانا۔علیہ بِکَذَا:بھلائی کرنا،انعام کرنا۔
 (لَقَدْ مَنَّ اللّہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْن إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُولاً )(3/164)
تھکانایا کمزور کرنا۔ دَمٌ:خون۔
 (حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُوَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْروَمَا أُہِلَّ لِغَیْرِ اللّہِ بِہِ)۔(5/3)
ہر وہ چیز جو بطور طلاء کے استعمال کی جائے۔
ج :دِماءٌ، دُمِیُّ،۔ اَلقَتْلُ:مص،قَتَلَہٗ (ن):
مارڈالنا۔اَجْدَرُ:اسم تفضیل،
جَدُربِکَذاوَلَہٗ (ک)،جَدَارَۃً:
لائق اور اہل ہونا۔
6۔۔۔۔۔۔

      واُخْرٰی اُصَادِیَ النَّفْسَ عَنْھَا واِنَّھَا             لَمَوْرِدُ حَزْمٍ اِنْ فَعَلْتُ ومَصْدَر،
ترجمہ:

    ایک اور صورت ہے جس سے میں پہلو تہی کر رہا ہوں(اس کے پر خطر ہونے کی وجہ سے)حالانکہ اگر میں اسے اختیار کروں تو وہ محتاط آدمی کا طریقہ ہے۔
حل لغات:
اُصَادِی(مفاعلۃ)،صاداہ،:مقابلہ کرنا،مدارات کرنا،آڑے آنا،دل جوئی کرنا۔ یہاں پر ''اُدَافِعُ''(پہلو تہی کرنا)کے معنی میں ہے ۔ مَوْرِدٌ:وُرُوْداً:قریب آنا، پہنچنا ، حاضر ہونا ۔
فی القرآن المجید:
 (وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْیَنَ)(28/23)
فَعَلْتُ:فَعَلَ الشَّیْءَ (ف)فَعْلًا:
کرنا، بنانا۔
 (قَالَ فَعَلْتُہَا إِذاً وَأَنَا مِنَ الضَّالِّیْنَ)۔(26/20)
مص (ض،ن)واپس کردینا،واپس ہونا،متوجہ ہونا،ظاہر ہونا،حاصل ہونا،واقع ہونا،نتیجہ نکلنا۔
7۔۔۔۔۔۔

      فَرَشْتُ لَھا صَدْرِیْ فَزَلَّ عَن ِالصَّفَا            بِہٖ جُوْجُؤٌ عَبْلٌ ومَتْنٌ مُخَصَّرُ
ترجمہ:

    تو (میں نے دوسری صورت کو اختیارکرتے ہوئے)اپنے سینے کو بچھادیا تو وہ صاف شفاف چٹان سے پھسلا اس حال میں کہ اس کے ساتھ چوڑا سینہ اور مضبو ط پتلی کمر تھی۔
Flag Counter