صَفِرَتْ:صَفِرَ (س)صَفَرًا:
صَفِرَالبَیتُ مِنَ الْمَتَاعِ،الاناءُ من الشرابِ۔
بھوکا ہونا،پیٹ میں کیڑے یا صفراء جمع ہوجانا۔ وِطاَبٌ:مف ،الوَطَبُ:دودھ کی مشک،بڑے پستان ، سخت دل والا مرد۔
شعر میں
''صَفِرَتْ لَھُمْ وِطَابِیْ''
سے مراد(الف)وِطَاب سے مراد:ظُرُوفُ الْعَسَلِ:شہد کے مشکیزے ۔ اس کے مطابق شعر کا ترجمہ ہو چکا۔(ب)
قد خَلٰی قَلْبِیْ مِنْ وُدِّھم کأنَّہ، یُرِیْدُ''وِطَابَ وُدِّیْ'':
میرا دل ان کی محبت سے خالی ہو چکا تھا۔یعنی انسان کے دل میں جوکسی کالحاظ وپاس ہوتاہے ان کی اس حرکت کے بعدوہ بھی نہیں رہا۔ اس کے مطابق شعر کا ترجمہ : میں نے بنو لحیان سے کہا اس حال میں کہ میرا دل ان کی محبت سے خالی ہو چکا تھا اور میرے لئے یہ دن تنگ سوراخ والاعیب دار تھا۔
(ج)اَشْرَفَتْ نَفْسِیْ عَلَی الْہلاکِ بِسَبَبِہِمْ:
میرا نفس ان کی وجہ سے ہلاکت کے قریب تھا۔ اس کے مطابق شعر کا ترجمہ :میں نے بنو لحیان سے کہا اس حال میں کہ میرا نفس ان کی وجہ سے ہلاکت کے قریب تھا اور میرے لئے یہ دن تنگ سوراخ والاعیب دار تھا۔(د)وِطاب سے مراد''اَلْجِسْمُ'':یعنی روح جسم سے نکلنے کے قریب تھی۔اس کے مطابق شعر کا ترجمہ : میں نے بنو لحیان سے کہا اس حال میں کہ ان کی وجہ سے میری روح جسم سے نکلنے کے قریب تھی اور میرے لئے یہ دن تنگ سوراخ والاعیب دار تھا۔
ضَیِّقٌ:تنگ ،چھوٹا،محصور،پریشان۔
(وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُک بِمَا یَقُولُون)(15/97)
اَلْجُحْرُ:بل،کھوہ،چھوٹے جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے رہنے کا سوراخ،حشرات الارض کے رہنے کی جگہ ۔
ج:جُحُوْرٌ، اَجْحَارٌ، جِحَرَۃُ، ۔ مُعْوِرٌ: اَعْوَرَ َالشیئُ:
ظاہر ہونا،ممکن ہونا،سامنے آنا،اعضاء مستورہ کا کھل جانا۔مَنْزِلُ فُلَانٍ:کسی کے مکان میں ایسا رخنا پڑنا جس سے دشمن کے اندر آنے کا ڈر ہو۔الفارسُ: گھوڑے سوار کی کسی جگہ کا کھل کر تلوار یا نیزے کی ز د میں ہوجانا۔
5۔۔۔۔۔۔
ھُمَا خُطَّتَا اِمَّا اِسارٌ ومِنَّۃٌ واِمَّا دَمٌ والْقَتْلُ بِالْحُرِّ اَجْدَر،