Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
69 - 324
وَقَالَ تَاَ بَّطَ شَرًّا وَھُوثَابِتُ بْنُ جَا بِرِ بْنِ سُفْیَان (الطویل)
شاعرکا تعارف:
    شاعر کا نا م:ثابت بن جابربن سفیان ہے(متوفی 80ق۔ھ/540ء)اوریہ جاہلی شاعر ہے۔''تَاَ بَّطَ شَرًّا''کی دو وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہیں ۔ پہلی یہ ہے کہ یہ شخص بغل میں تلوار چھپائے نکل گیا جب اس کی ماں سے پوچھاگیاکہ وہ (ثابت)کہاں ہے؟ تواس نے کہا:
لَااَدْرِیْ!تَاَ بَّطَ شَرًّاوَخَرَجَ:
مجھے معلوم نہیں !وہ بغل میں برائی کو دباکر چلاگیا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ایک دن بغل میں چھری چھپاکر اپنی قوم کی محفل میں چلاگیااور کسی کو چھری ماردی تو اس وقت کہا گیا:''تَاَ بَّطَ شَرًّا''۔
اشعار کا پس ِ منظر:
     شاعر قبیلہ ہذیل کے غارسے ہر سال شہد چرایا کرتا تھا جب قبیلہ ہذیل کی شاخ بنو لحیان کو علم ہو ا تو وہ اسکی گھات میں بیٹھ گئے جب ثابت اپنے ساتھیوں کے ہمراہ غار میں داخل ہو نے لگا تو بنو لحیان نے ان پر حملہ کر دیا اس کے ساتھی توبھاگنے میں کامیاب ہو گئے لیکن یہ غار میں داخل ہو گیا اور بنولحیان غار میں رسی ڈا ل کر ہلانے لگے اس نے باہر کی طرف جھانکا تواسے اپنے دشمن نظر آئے ، انہوں نے کہا:باہر آجاؤ!اس نے کہا :میں کس شرط پر باہر آؤں آزادی یا فدیہ ؟ انہوں نے کہا :غیرمشروط طور پر باہر آجاؤ !اس نے سوچا میں قتل ہونے یا قید ہونے کیلئے باہر نہیں جاؤں گا،پھر اس نے غار کا جائزہ لیاتو اسے ایک خفیہ راستہ معلوم ہوگیا جو طویل چٹان کی صورت میں پہاڑ کی دوسری جانب نکل رہاتھا،اِس نے اُس راستے کے پتھر وں پر شہد بہایا اور مشکیزہ اپنے سینے سے باندھ کر اس چٹان پر پھسلنے لگا اورپھسلتے ہوئے پہاڑ کی دوسری جانب ہموار زمین تک پہنچ گیا اورجہاں یہ پہنچا اس مقام اور بنو لحیان کے در میان تین دن کا فاصلہ تھا۔ اس موقعہ پر اس نے یہ اشعار کہے:
1۔۔۔۔۔۔

     اِذَا لْمَرْءُ لَمْ یَحْتَلْ وقَدْ جَدَّ جِدُّہ،            اَضَاعَ وقَاسٰی اَمْرَہ، وھو مُدْبِر،
ترجمہ:

    جب انسان حیلہ نہ کر ے حالانکہ ا س کا معاملہ سخت ہوجائے تو وہ خود کو ضائع کر دیتاہے اور اپنے معاملےکو سخت کر لیتا ہے پھر وہ شکست ہی کھاتاہے۔
حل لغات:
    لم یَحْتَلْ:(افتعال)اِحَتَالَ فلانٌ:
کوئی چیز چال اورحیلہ سے لینا،چال چلنا،حیلہ سے کام لینا، تدبیر
Flag Counter