(وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً وَبِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ) (4/36)
سمت، گوشہ ، گھر کاصحن ، محلہ کاچوک۔ج:جَوَانِبٌ۔ پردیسی،مسافر،پرایا،حقیر جس سے گریز کیا جائے، سرکش ،وہ گھوڑا جس کے پاؤں کے درمیان کا فاصلہ زیادہ ہو۔ج: جُنّاب۔ عمارت کاحصہ ، مقدار، حیثیت ۔عربی مقولہ ہے:
''اِنْ جَانِبٌ اَعْیَاکَ فَاَلْحِقْ بِجَانِب''
یعنی اگر کام کی کسی ایک جہت سے تم ناامید ہو گئے ہو تو چستی سے کام لو دوسری جہت میں مصروف عمل ہوجاؤ ۔
9۔۔۔۔۔۔
ولم یَسْتَشِرْ فِیْ رَأیِہٖ غَیْرَ نَفْسِہٖ ولم یَرْضَ اِلَّا قائِمَ السَّیْفِ صاحِبَا
ترجمہ:
اور اپنی رائے میں کسی دوسرے سے مشورہ نہیں کرتا اور تلوار کے قبضہ کے علاوہ کسی کو ساتھی بنانے پر راضی نہیں ہوتا۔
مطلب:
یعنی انتہائی درجے کا خود اعتماد ہے کہ اپنے علاوہ کسی پر اعتماد نہیں کرتا اور عرب کے ہاں یہ خصلت قابل تعریف تھی ۔
لم یَسْتَشِرْ(استفعال)، اِسْتَشَارَ فلانٌ فِی کَذَا اَو فِی الْاَمْرِ:
(وَشَاوِرْہُمْ فِی الۡاَمْرِ)(3/159)
''اِذَا شَاوَرْتَ الْعَاقِلَ صَارَ عَقْلُہٗ لَکَ'':
جب تو عقلمند سے مشورہ کریگاتو اس کی عقل تیرے لئے ہو جائے گی۔ رَاْئیٌ:رائے، اعتقاد،نصیحت، تجویز، سوچ، مشورہ، تدبیر ، عقل، غور و فکر ۔
ج:آرَاءٌ۔ ''ولم یَسْتَشِرْ فِیْ رَاْئیِہٖ''
ابوعلی احمد مرزوقی کے نسخہ میں
''ولم یَسْتَشِرْ فِیْ امرِہٖ''
یَرْض:رضِیہ، وبہٖ عنہ وعلیہ(س)رِضْواناً:
مان لینا،راضی ہونا،پسند کرنا،خوش ہونا ،قبول کرنا۔
(وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْنًا)(5/3)
''رِضَا النّاسِ غَایَۃٌ لا تُدْرَکُ'':
لوگوں کی رضا مندی ایسا مقصد ہے جو کبھی حا صل نہیں ہوسکتا،اس لئے اصلاح کی کوشش کیے جائے اور لوگوں کی باتوں کی طرف توجہ نہ دے۔
''مَن رَضِیَ عَن نَفْسِہٖ کَثَّرَ السَّاخِطِیْنَ عَلَیْہِ'':
جو اپنے نفس سے راضی ہو گیا اسنے اپنے پر نا راض ہو نے والے زیادہ کر لئے۔