(فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ) (3/159)
آنا،قریب ہونا۔علیہِ کَذَا:گزرنا۔
( ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ ) (76/1)۔
علیہِ:مکمل کرنا،ختم کرنا۔اَلاَمْرُ:حکم ۔
(قُضِیَ الأَمْرُ الَّذیْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیَان)(12/41)
، فرمان، آرڈر، وارنٹ،مطالبہ۔ج:اَوَامِرٌ۔ کام۔
(وَقُضِیَ الأَمْرُ وَإِلَی اللّہِ تُرْجَعُ الأمُورُ)(2/210)
(لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئ)(3/128)
ج:اُمُورٌ۔ ھائبا:فا:ھَابَہ، (س)ھَیْبَۃً:
تعظیم وتوقیر کرنا۔ عربی کامقولہ ہے:
7۔۔۔۔۔۔
فیا لِرَزامٍ رَشَّحُوْا بِیْ مُقَدِّمًا اِلَی الْموتِ خَوَّاضًا الیہِ الْکَتَائِبَا
ترجمہ:
اے لوگو !بنو رزام پر تعجب ہے کہ انہوں نے میری ایسی تر بیت کی کہ میں مو ت کی طر ف پیش قدمی کر نے والااور لشکروں میں گھس جانے والا ہوں ۔
مطلب:
یعنی شاعراپنی قوم کی مذمت کررہاہے کہ انہوں نے مجھے تو بھر پور طریقے سے جنگی تر بیت دی لیکن ان سے اتنابھی نہ ہو سکا کہ میری عدم مو جو دگی میں میرے گھر کی حفاظت کریں ۔
رَشَّحُوا(تفعیل)رَشَّحَہ،:
پرورش کرنا،نشونمادینا۔ للشیئِ:تیارکرنا ، اہل ولا ئق بنانا۔حدیث خالدبن ولید رضی اﷲتعالیٰ عنہ میں ہے۔
((اَنَّہ، رَشَّحَ وَلَدَہٗ لِوَلَایَۃِ الْعَھْدِ))۔ مُقَدِّمٌ:فا،(تفعیل)قَدَّمَ فلانًا:
آگے کرنا،سامنے کرنا،پہلے بھیجنا۔
( وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ )(59/18)
خَوَّاضٌ:بے دھڑک کودنے اور گھسنے والا۔
پانی میں گھسنا،داخل ہونا۔الاَمْرَ وفِیہ:کسی معاملہ میں گھس جانا ، کود پڑنا ، سرگرم ہونا ۔اَلْغَمَراتِ:سختیوں میں گھس پڑنا۔اَللَّیْلَ:رات کی تاریکی سے بے پرواہ ہوکر رات کو چلنا۔ اَلْکَتَائِبُ:مف:کَتِیْبَۃٌ:لشکر کا ایک حصہ،گھوڑوں کا ریوڑ، فوج کا بڑا دستہ جس کے تحت کمپنیاں ہوتی ہیں۔
8۔۔۔۔۔۔
اِذَا ھَمَّ اَلْقٰی بَیْنَ عَیْنَیْہِ عَزْمَہ، ونَکَّبَ عَنْ ذِکْرِ الْعَوَاقِبِ جانِبَا