Brailvi Books
 |
دِيوانِ حماسه |
(إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیْمٍ) (81/19)
''اَلْکَرِیْمُ اِذَا وَعَدَ وَفَا'':
معزز (شریف النفس)جب وعدہ کرتاہے تو پوراکرتاہے۔
''اَلْعُذْرُ عِنْدَ کِرَامِ النَّاسِ مَقْبُوْلٌ'':
معزز لوگ عذر قبول کرتے ہیں۔یعنی عفو درگذر معزز لوگوں کا زیور ہے۔
لایُبَالِی:بَالَی فلانا:توجہ دینا۔
العَوَاقِبُ:مف:اَلعَاقِبَۃُ:اولاد،جزائے خیر،ہر چیز کا خاتمہ،انجام،نتیجہ ۔عربی مقولہ ہے :
''اَلْعُقُوبَۃُ الْاَمُ حَالَاتِ الْقُدْرَۃِ'':
قدرت کی حالتو ں میں سب سے گھٹیا حالت سزادیناہے۔ یعنی معاف کرنا بہتر ہے۔
5۔۔۔۔۔۔
اَخِیْ غَمَرَاتٍ لایُرِیْدُ عَلَی الَّذِیْ یَھُمُّ بِہٖ مِنْ مُفْظِعِ الْاَمْرِ صاحِبَا
ترجمہ:
(وہ کریم )سخت مصیبتوں(کو برداشت کرنے )والا ہے جس اہم کام کا ارادہ کر تا ہے اس پرکوئی مددگار نہیں چاہتا۔
لایرید:(افعال)أرَادَ الشیئَ:
چاہنا،خواہش کرنا،پسندکرنا۔غیرذی روح اگر فاعل ہو تو معنی ہوگا: تیارہونا،قریب ہونا۔
(فَوَجَدَا فِیْہَا جِدَاراً یُرِیْدُ أَنْ یَنقَضَّ فَأَقَامَہ) (18/77)
کسی کو کسی بات پر آمادہ کرنا۔
''اُرِیْدُحِبائَہ، وَیُرِیْدُ قَتْلِیْ'':
میں اسے عطیہ دینا چاہتاہوں اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتاہے۔
''مَنْ لَّمْ یُرِدْکَ فَلا تُرِدْہُ'':
جو تجھے نہیں چاہتاتو بھی اسے نہ چاہ۔
یَھُمُّ:ھَمَّ بِا الْاَمْرِ(ن)ھَمًّا:
کسی بات کا پختہ اردہ کر نا۔لنفسہ:اپنے لئے حیلہ اور جستجو کرنا۔ الامرُفلانا:مغموم وفکر مند کرنا ، بے چین کرنا۔
(وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہِ وَہَمَّ بِہَا لَوْلا أَن رَّأَی بُرْہَانَ رَبِّہِ) (12/24)
مُفْظِعٌ:فا،(افعال)اَفْظَعَ الْاَمْرُ:
بھیانک ہونا،نا گفتہ بہ ہونا،انتہائی برا ہونا،مشکل میں ڈالنا،امرقبیح میں مبتلا کر نا۔صاحبا:ساتھی، ہمراہی،حاکم ومنتظم۔
(وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِکَۃً)(74/31)،
کسی مسلک کا متبع۔جیسے:صاحب ابی حنیفۃ۔ ج:اَصْحَابٌ۔عربی مقولہ ہے:
''صَاحِبُ الْحَاجَۃِ اَعْمٰی'':
''صَاحِبُ الدَّارِ اَدْرٰی بمَا فِی الدَّارِ:
گھر والازیادہ جانتا ہے کہ گھرمیں کیاہے۔
6۔۔۔۔۔۔
اِذَا ھَمَّ لَمْ تُرْدَعْ عَزِیْمَۃُ ھَمِّہٖ ولم یَاْتِ ما یَاْتِیْ مِنَ الأمرِ ھائِبَا
ترجمہ:
جب وہ ارادہ کرتاہے تو اس کے پختہ ارادہ کو ٹالا نہیں جا سکتا اور وہ جو بھی کام کرتا ہے ڈر کر نہیں کرتا۔