ذلیل وخوار ہونا،عمر میں کسی سے چھوٹاہونا، (سائز میں)چھوٹاہونا۔
(وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَاکَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً) (17/24)
(وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْنِی)(20/39)
زمین سے جا ری ہونے والاچشمہ آب۔
(فِیْہِمَا عَیْنَانِ تَجْرِیَانِ ) (55/50)
اہل شہر ،ا ہل خانہ، جاسوس،مخبر،سپہ سا لار،فوج کا ہر اول دستہ ، بڑا اور معززآدمی،کسی چیز کی ذات، ڈھلاہوا سکہ،ہر موجودچیز،ہر نوع کی عمدہ چیز،بد نظری، شعاع آفتاب،گھٹنا،قسم یانوع۔عربی کامقولہ ہے :
''رُبَّ عَیْنٍ اَ نَمُّ مِنْ لِّسَانٍ'':
بہت سی آنکھیں زبان سے زیادہ چغل خور ہوتی ہیں۔تِلَادٌ:مف، اَلتُّلْدُ:اصلی پرانا مال، موروثی جائیداد۔
اِنْثَنَتْ:(انفعال)، اِنْثَنَی الشیئُ:
مڑجانا،لپٹ جانا۔''بِاِدْراکِ''بیروت کے نسخہ میں یاء کے بغیر ہے،شعر میں اسی کے مطابق لکھاگیاہے۔
طالبا:فا،طَلَبَ الشیءَ (ن)طَلَبًا:
ڈھونڈنا،تلاش کرنا۔الیہ:راغب ہونا۔
(ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ) (22/73)
''رُبَّ طَلَبٍ جَرَّ الی حَرْبٍ''
بہت سی طلب لڑائی تک پہنچادیتی ہیں۔عربی مقولہ ہے :
''من طلب عظیما خاطر بعظیمٍ'':
جوکوئی بری مہم طلب کریگا وہ بڑے خطرے کا سامنا کر ے گا۔
4۔۔۔۔۔۔
فَاِنْ تَھْدِمُوْا بِالْغَدْرِ دارِیْ فَاِنَّھا تُراثٌ کَرِیْمٍ لایُبالِی الْعَوَاقِبَا
ترجمہ:
اگر تم نے دھوکے سے میر اگھر گرادیاتو(کو ئی بات نہیں )وہ ایک ایسے کریم کی وراثت ہے جو انجام کی پر واہ نہیں کرتا۔
حل لغات :
اَلْغَدْرُ:دھوکا، بے وفائی ،خیانت ،عہد شکنی ،بے ایمانی۔تُرَاثٌ:مال وراثت، ورثہ ،ترکہ، موروثی سرمایہ۔
اَلتُّرَاثُ الْاِسْلاَمِیْ:
اسلامی علوم وفنون کا اسلاف سے ملاہوا سرمایہ۔
(وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُد) (27/ 16)۔
کریم:اﷲ تعالی کے اسماء اور صفات میں سے ایک ، بڑا سخی وفیاض جس کی بخشش و عطاکا سلسلہ منقطع نہ ہو،۔درگزکرنے والا ،وسیع الظرف ،ہر اس چیز کی صفت جو اپنی ذات میں عمدہ اور قابل قدرہو،شریف الطبع، معزز،عزت والا۔
(إِنَّہُ لَقُرْآنٌ کَرِیْم) (56/77)