Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
64 - 324
ترجمہ:

    عنقریب میں عار کواپنی تلوار کے ذریعے دور کروں گا اس حال میں کہ تقدیر الہی جو چاہے وہ کھینچ کر لائے ۔

مطلب :

    یعنی جنہوں نے میرے گھر کو گرادیا ہے حقیقت میں انہوں نے میری عزت سے کھیلا ہے لہٰذا میں ان سے انتقام ضرور لوں گا پھر چاہے جو بھی ہوجائے ۔
حل لغات:
     اَغْسِلُ:غَسَلَ الشَّیْءَ (ض)غَسْلًا:
دھونا۔
فی القرآن المجید:
 (فاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُم)(5/6)
اَلغُسْلُ:غسل کرنا،نہانا،پورے بدن کا دھونا ، صابن وغیرہ ۔
ج:اَغْسَالٌ، اَلْغِسْلُ، اَلْغَسُّوْلُ۔ اَلْعَارُ:
ہر باعث شرم ،باعث عیب بات ،
ج:اَعْیَارٌ۔ جَالِبٌ:فا:جلب(ن،ض):
ہانک کر لیجانا۔
قَضَاءً:مص،قضی(ض):
فیصلہ کرنا،طے کرنا ، مقدمہ کا حکم سننا۔لہ:کسی کے حق میں فیصلہ کرنا۔علیہ:کسی کےخلاف فیصلہ کر نا۔ الشَّیْئَ:مضبوطی کے ساتھ بنانا،اندازہ کرنا۔حَاجَتَہ،:ضرورت کو پورا کرنا اور اس سے فارغ ہونا۔
 (وَإِذَا قَضَی أَمْراً) (2/117) (قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْت) (39/42)
2۔۔۔۔۔۔

     واَذْھَلُ عَنْ دَارِیْ وَاَجْعَلُ ھَدْمَھا             لِعِرْضِیْ مِنْ باقِی الْمَذَمَّۃِ حَاجِبَا
ترجمہ:

    اور میں اپنے گھر کو بھو ل جاؤں گا نیز اس کے گرنے کو اپنی عزت کے لئے باقی مذمت سے ڈھال بناؤں گا۔
حل لغات:
    اَذْھَلُ:ذَھَلَہٗ وعنہُ(ف)ذَھْلًا:
بھولنا،غافل ہوجانا،ذہن سے نکل جانا۔
ذَھِلَ(س)ذُھُولاً:
ہکابکاہوجانا، حواس باختہ ہوجانا،ہوش اڑجانا۔الشیءَ عنہ:بھول جانا اور غافل ہوجانا۔الدار:صحن دار مکان ،گھر،رہائشی مکان،شہر، قبیلہ۔
ج:اَدْوُرٌ ودِیارٌ ودِیارَۃٌ ودُوْرٌ۔ دِیارَۃٌ
کی جمع دِیَارَاتٌ ہے۔
فی القرآن المجید:
 (وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَان)(29/64)
ھَدْمٌ:مص، ھَدَمَ البِناءَ(ض):
عمارت گرانا،توڑنا۔ اَلھَدَمُ ہرگر کر ٹوٹنے والی چیز، رائیگاں خون۔ عرض:بدن ، جان،نفس،آبرو،نسبی شرافت، بڑابادل، زبردست گھٹا،شاداب وادی،بُوکسی قسم کی۔
ج:اَعْرَاضٌ۔ اَلمَذِمَّۃُ:
برائی کرنا۔عیب نکالنا۔حق ، عزت وحرمت۔
حاجبا:فا، حَجَبَ بینھما (ن)حَجْبًا:
حائل ہونا،رکاوٹ بننا۔ الشیئَ:چھپانا۔ فلاناً:داخل ہونے یا میراث سے روکنا۔
 (حِجَاباً مَّسْتُورا) (17/45)
Flag Counter