| دِيوانِ حماسه |
ترجمہ:
عنقریب میں عار کواپنی تلوار کے ذریعے دور کروں گا اس حال میں کہ تقدیر الہی جو چاہے وہ کھینچ کر لائے ۔
مطلب :
یعنی جنہوں نے میرے گھر کو گرادیا ہے حقیقت میں انہوں نے میری عزت سے کھیلا ہے لہٰذا میں ان سے انتقام ضرور لوں گا پھر چاہے جو بھی ہوجائے ۔حل لغات:
اَغْسِلُ:غَسَلَ الشَّیْءَ (ض)غَسْلًا:
دھونا۔
فی القرآن المجید:
(فاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُم)(5/6)
اَلغُسْلُ:غسل کرنا،نہانا،پورے بدن کا دھونا ، صابن وغیرہ ۔
ج:اَغْسَالٌ، اَلْغِسْلُ، اَلْغَسُّوْلُ۔ اَلْعَارُ:
ہر باعث شرم ،باعث عیب بات ،
ج:اَعْیَارٌ۔ جَالِبٌ:فا:جلب(ن،ض):
ہانک کر لیجانا۔
قَضَاءً:مص،قضی(ض):
فیصلہ کرنا،طے کرنا ، مقدمہ کا حکم سننا۔لہ:کسی کے حق میں فیصلہ کرنا۔علیہ:کسی کےخلاف فیصلہ کر نا۔ الشَّیْئَ:مضبوطی کے ساتھ بنانا،اندازہ کرنا۔حَاجَتَہ،:ضرورت کو پورا کرنا اور اس سے فارغ ہونا۔
(وَإِذَا قَضَی أَمْراً) (2/117) (قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْت) (39/42)
2۔۔۔۔۔۔
واَذْھَلُ عَنْ دَارِیْ وَاَجْعَلُ ھَدْمَھا لِعِرْضِیْ مِنْ باقِی الْمَذَمَّۃِ حَاجِبَاترجمہ:
اور میں اپنے گھر کو بھو ل جاؤں گا نیز اس کے گرنے کو اپنی عزت کے لئے باقی مذمت سے ڈھال بناؤں گا۔حل لغات:
اَذْھَلُ:ذَھَلَہٗ وعنہُ(ف)ذَھْلًا:
بھولنا،غافل ہوجانا،ذہن سے نکل جانا۔
ذَھِلَ(س)ذُھُولاً:
ہکابکاہوجانا، حواس باختہ ہوجانا،ہوش اڑجانا۔الشیءَ عنہ:بھول جانا اور غافل ہوجانا۔الدار:صحن دار مکان ،گھر،رہائشی مکان،شہر، قبیلہ۔
ج:اَدْوُرٌ ودِیارٌ ودِیارَۃٌ ودُوْرٌ۔ دِیارَۃٌ
کی جمع دِیَارَاتٌ ہے۔
فی القرآن المجید:
(وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَان)(29/64)
ھَدْمٌ:مص، ھَدَمَ البِناءَ(ض):
عمارت گرانا،توڑنا۔ اَلھَدَمُ ہرگر کر ٹوٹنے والی چیز، رائیگاں خون۔ عرض:بدن ، جان،نفس،آبرو،نسبی شرافت، بڑابادل، زبردست گھٹا،شاداب وادی،بُوکسی قسم کی۔
ج:اَعْرَاضٌ۔ اَلمَذِمَّۃُ:
برائی کرنا۔عیب نکالنا۔حق ، عزت وحرمت۔
حاجبا:فا، حَجَبَ بینھما (ن)حَجْبًا:
حائل ہونا،رکاوٹ بننا۔ الشیئَ:چھپانا۔ فلاناً:داخل ہونے یا میراث سے روکنا۔
(حِجَاباً مَّسْتُورا) (17/45)