Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
63 - 324
ترجمہ: 

    میں نے اسے اپنے سے دور کیا تو اس نے اپنا راستہ دیکھا اور میں نے اوپر سے اس کے سر کی رگو ں کو داغا۔    

مطلب:

    یعنی ماقبل شعر میں مذکو ر صفات کے حامل متکبر دشمن پر جب میں نے حملہ کیا اور اس کے سر پر تلوار کا وار کیا تو اسے صحیح طو ر پر اپنی حیثیت معلوم ہوئی اوراس نے راہ فرار اختیار کرلی ۔
حل لغات:
    اَزْجَیْتُ(افعال)اَزْجًا الشیئَ:
چلانا،گذارنا،ہانکنا،رائج کرنا۔ مؤخر کرنا ۔ اَزْجَیْتُ اَیَّامِیْ:میں نے معمولی خوراک پر وقت گذاری کی ۔قَصْدٌ:را ہ یا بی ، ہدایت،راہ راست۔
فی القرآن المجید:
 (وَعَلَی اللّہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ)(16/9)
معتدل ، سامنے ، تھوڑا، خشک،گوشت، ارادہ، توجہ، رخ،میانہ روی،مقصد۔
کَوَیْتُ:کَوَاہ ُ(ض)کَیًّا:
لوہا تپاکرکھال کوداغ دینا،آگ یا لوہے سے جلانا۔
 (فَتُکْوَی بِہَا جِبَاھُہُمْ وَجُنوبُہُمْ)(9/35)۔
الثَّوبَ:کپڑے پر پریس کرنا،استری پھیر کرسلو ٹیں دور کرنا۔مِکْوَا ۃٌ:استری۔عربی مقولہ ہے۔
''لَوْکُوِیْتُ عَلٰی دَاءٍ لَمْ اَکْرَہْ'':
اگر مجھے بیماری کی بناپر داغ دیاجاتاتو میں ناگوار نہ جانتا۔بے قصورستایاگیا۔ اَلنَّوَاظِرُ:مف:اَلنَّاظِرَۃُ:آنکھ، آنکھوں کی رگیں جو سر تک پہنچتی ہیں۔ مقولہ:''
مَنْ نَظَرَ فِیْ الْعَوَاقِبِ سَلِمَ مِنَ الْنَوَائِبِ:
جو انجام پر نظر رکھے گا حادثوں سے محفوظ رہے گا۔عَلٍ:اوپربمعنی جو انجام پر نظر رکھے گا حادثوں سے محفوظ رہے گا۔عَلٍ:اوپربمعنی جو انجام پر نظر رکھے گا حادثوں سے محفوظ رہے گا۔عَلٍ:اوپربمعنی
فوق۔ اَتَیْتُہ، مِنْ عَلٍ:
میں اس کے پاس اوپر سے آیا۔
وَقَالَ سَعْدُ بْنُ نَاشِبٍ (الطویل)
شاعر کاتعارف:
    شاعر کا نا م:سعد بن ناشب بن مازن بن عمروہے(110ھ/728ء)اور یہ اسلامی شاعر ہیں ۔

اشعار کے پس منظر:

    انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا تو بلال بن ابی بردہ بن ابی موسی اشعری رضی اﷲتعالی عنہ نے قصاصا ًاسے قتل کرنا چاہا تو یہ فرار ہوگئے ،جب وہ قصاص لینے میں کامیاب نہ ہوئے تو بصرہ میں جو اِن کا مکان تھا اسے گرادیا،جب شاعر کو اپنے گھر کے منہدم ہونے کا علم ہوا تو یہ اشعار کہے ۔
1۔۔۔۔۔۔

    سَاَغْسِلُ عَنِّی الْعَارَ بِالسَّیْفِ جَالِبًا       عَلَیَّ قَضَاءُ اﷲِ ماکانَ جَالِبَا
Flag Counter