محتاج ہونا۔فلانا:پکارنا،آواز دینا،بلانا، مددچاہنا ،مددکے لئے بلانا۔
(فَلاَ تَدْعُوا مَعَ اللہِ أَحَداً)(72/18)
لِفلانٍ:کسی کے حق میں خیر کی دعاکرنا،کسی کی طرف منسوب کرنا۔علی فلانٍ:کسی کے لئے بددعا کرنا۔نَزَالِ:اسم فعل بمعنی اِنْزِلْ(برائے واحد وجمع مذکر ومؤنث )اترآؤ،میدان جنگ میں لڑنے کی دعوت دینے کا ایک مخصوص لفظ۔ اَوَّلٌ:پہلا،سبقت،لیجانے والا۔،ڑااہم ،آغاز۔
(ھُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ)(57/3)
''اَوَّلُ الْغَضَبِ جُنُوْنٌ وَآخِرُہ، نَدَ مٌ'':
غضب کی ابتداء جنون اور انتہاء ندامت ہے۔علام:یہ ''علی''حرف جر ّاور ''ما''استفہامیہ سے مرکب ہے۔ (فائدہ):جب حرف جر ''مَا''استفہامیہ پر داخل ہو تاہے تو اس کاالف تخفیفاً حذف کر دیاجاتاہے جیسے:
مگر جب''ما'' ''ذا''کے ساتھ ملاہواہو تو اس وقت اس کاالف حذف نہیں کیاجائے گا۔ جیسے:لِمَاذَا۔
3۔۔۔۔۔۔
وَاَلَدَّ ذِیْ حَنَقٍ عَلَیَّ کَاَنَّمَا تَغْلِیْ عَدَاوَۃُ صَدْرِہٖ فِیْ مِرْجَلٖ
ترجمہ:
اور بہت سے سخت جھگڑالو مجھ پر سخت غصہ کرنے والے گویا کہ ان کے سینے کی عداوت ہانڈی کی طرح ابل رہی ہے ۔
مطلب:
شاعر یہ بتانا چاہتاہے کہ جنگ میں میرے ایسے دشمن بھی آئے ہوئے تھے کہ جن کاسینہ ہمہ وقت میرے بغض وعداوت سے بھرا رہتاہے اور جو ش انتقام اس طرح ابل رہا تھا جیسے ہانڈی آگ پر ہوتواس کا پا نی وغیر ہ جوش مار کر ابل رہاہوتاہے ۔
حل لغات:
اَلَدَّ:اسم تفضیل، لَدَّ فلانًا(ن)لَدًّا:کسی سے سخت جھگڑنا ،سخت دشمنی رکھنا،کسی سے جھگڑے میں غالب ہوجانا۔
ج:لَدٌّ ولِدَادٌ۔ فی القرآن المجید:
(وَھُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ) (2/204)
حَنَقٌ:مص،حَنِقَ علیہِ(س):
کسی پر انتہائی غضب نا ک ہونا،دانت پیسنا ، برہم ہونا۔
تغلی:غَلَی الرَّجُلَ(ض)غَلْیًا:
غصہ سے کھول جانا،آگ بگولہ ہوجانا۔ غَلَتِ القِدْرُ:ہانڈی کا جوش مارنا،کھولنا،ابلنا۔
(کَغَلْیِ الْحَمِیْم)(44/ 46)
مِرْجَلٌ:مٹی کی پختہ ہانڈی،پیتل وغیرہ کی دیگچی،کنگھا۔ج:مَرَاجِل۔
4۔۔۔۔۔۔
اَزْجَیْتُہ، عَنِّیْ فَاَبْصَرَ قَصْدَہٗ وَکَوَیْتُہ، فَوْقَ النَّوَاظِرِ مِنْ عَل