Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
59 - 324
وَقَالَ بَلْعَاءُ بْنُ قَیْسٍ الْکِنَانِیُّ (البسیط)
شاعر کانام:

     بلعاء بن قیس کنانی ہے اور یہ جاہلی شاعرہے ۔
1۔۔۔۔۔۔

     وَفَارِسٍ فِیْ غِمَارِالْمَوْتِ مُنْغَمِسٍ            اِذَا تَاَلّٰی عَلٰی مَکْرُوْھَۃٍ صَدَقَا
ترجمہ:

    موت کی سختیوں میں گھسنے والے کتنے ہی ایسے شہسوار ہیں کہ جب وہ کسی ناگواربات پر قسم کھاتے ہیں تو پو ری کرتے ہیں ۔
حل لغات:
     مُنْغَمِس:اِنْغَمَسَ فی الماءِ:
پانی میں غوطہ لگانا۔فی الشیئ:داخل ہونا۔ تَألّٰی:قسم کھانا۔
مَکْرُوْھَۃٌ:کرہ(س)الشیءَ کُرْھًا:
نفرت کرنا،نا پسند کر نا، براسمجھنا ۔
فی القرآن المجید:
 (وَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْأاً وَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ) (2/ 216)
2۔۔۔۔۔۔

     غَشَّیْتُہ، وَھُوَ فِیْ جَاوَاءِ بَاسِلَۃٍ             عَضًّا اَصَابَ سَوَاءَ الرَّاْسِ فَانْفَلَقَا
ترجمہ: 

    میں نے انہیں ڈھانپااس حال میں کہ وہ بہادروں کے سرخ لباس میں ملبوس تھے ایسی کاٹنے والی تلوار کے ساتھ جو سر کے درمیان پہنچی تو وہ پھٹ گیا۔
حل لغات:
    غشَّیْتُ:(تفعیل)غشّی الشیءَ وعلیہ:
پردہ ڈالنا،ڈھانپنا۔
فی القرآن المجید:
 (فَغَشَّاھَا مَا غَشَّی)(53/54)
احاطہ میں لینا،کورکرنا۔
فُلانًا بِالسَّوْطِ اَوِ السَّیْفِ:
زورشورسے کوڑایاتلوار مارنا،اچھی طرح خبرلینا۔ جاواء:صفت، مؤنث ہے اَجْوءُ کی۔جَئِیَ الفرسُ(س)جأًء:گھوڑے کا سیاہی مائل سرخ ہونا،کتھئی رنگ کا ہونا۔ باسِلَۃ:اَلْباسِلُ:جری ، بہادر۔ ج:بُسْلٌوبَواسِل۔ بسل(ک )بَسالَۃً:بہادر ہونا،لڑائی میں تیوری چڑھائے ہوئے ہونا۔عَضًّا:دانتوں سے پکڑنا، مضبوطی سے تھامنا۔
 (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ)(25/27)
عربی مقولہ ہے:
''ماعسی ان یبلغ غض النمل'':
امید ہے کہ چیونٹی کی کاٹ کے برابر بھی نہیں پہنچے گا۔یہ اس وقت بولاجاتاہے جب کسی کی دھمکی کی کوئی پرواہ نہ ہو۔''عَضًّا''بیروت کے نسخہ میں''عَضْبًا''ہے۔اَصَاب(افعال ):تیر
Flag Counter