مُنْغَمِس:اِنْغَمَسَ فی الماءِ:
پانی میں غوطہ لگانا۔فی الشیئ:داخل ہونا۔ تَألّٰی:قسم کھانا۔
مَکْرُوْھَۃٌ:کرہ(س)الشیءَ کُرْھًا:
نفرت کرنا،نا پسند کر نا، براسمجھنا ۔
(وَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْأاً وَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ) (2/ 216)
2۔۔۔۔۔۔
غَشَّیْتُہ، وَھُوَ فِیْ جَاوَاءِ بَاسِلَۃٍ عَضًّا اَصَابَ سَوَاءَ الرَّاْسِ فَانْفَلَقَا
ترجمہ:
میں نے انہیں ڈھانپااس حال میں کہ وہ بہادروں کے سرخ لباس میں ملبوس تھے ایسی کاٹنے والی تلوار کے ساتھ جو سر کے درمیان پہنچی تو وہ پھٹ گیا۔
غشَّیْتُ:(تفعیل)غشّی الشیءَ وعلیہ:
(فَغَشَّاھَا مَا غَشَّی)(53/54)
فُلانًا بِالسَّوْطِ اَوِ السَّیْفِ:
زورشورسے کوڑایاتلوار مارنا،اچھی طرح خبرلینا۔ جاواء:صفت، مؤنث ہے اَجْوءُ کی۔جَئِیَ الفرسُ(س)جأًء:گھوڑے کا سیاہی مائل سرخ ہونا،کتھئی رنگ کا ہونا۔ باسِلَۃ:اَلْباسِلُ:جری ، بہادر۔ ج:بُسْلٌوبَواسِل۔ بسل(ک )بَسالَۃً:بہادر ہونا،لڑائی میں تیوری چڑھائے ہوئے ہونا۔عَضًّا:دانتوں سے پکڑنا، مضبوطی سے تھامنا۔
(وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ)(25/27)
''ماعسی ان یبلغ غض النمل'':
امید ہے کہ چیونٹی کی کاٹ کے برابر بھی نہیں پہنچے گا۔یہ اس وقت بولاجاتاہے جب کسی کی دھمکی کی کوئی پرواہ نہ ہو۔''عَضًّا''بیروت کے نسخہ میں''عَضْبًا''ہے۔اَصَاب(افعال ):تیر