صَدَقَ فی الحدیث(ن)صَدْقًا:
فی الحدیث:((اَلصِّدْقُ یُنْجِی وَالْکِذْبُ یُھْلِکُ:
سچ نجات دیتاہے اور جھوٹ ہلاک کرتاہے ۔دَاءٌ:ظاہری یا باطنی بیماری،ظاہری یاباطنی خرابی، عیب۔ ج:اَدْوَاءٌ ودَوْءٌ۔ حِبَاب:مص(مفاعلۃ)حابَّہ،:باہم ومحبت والفت رکھنا،دوستی رکھنا۔ مرزوقی کی تحقیق کے مطابق حِبَاب''حُبّ''کی جمع بھی ہوسکتی ہے،جمع لانے میں حکمت یہ ہے کہ محبت کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔عربی مقولہ ہے:
''لَیْسَ فِی الْحُبِّ مَشُوْرَۃٌ'':
محبت میں مشورہ کی ضرورت نہیں۔ سِحْرٌ:جادو،ہر وہ چیز جس کا کوئی مخفی سبب ہو اور وہ اپنی حقیقت کے خلاف ظاہر ہو ،ہر وہ چیز جس کے حصول میں شیطانی ذرائع سے مدد لی جائے ۔
اَلسِّحْرُ کُلُّ ما لَطُفَ وَدَقَّ:
ہروہ چیز جس کی گرفت لطیف اورباریک ہویعنی جوچیز اپنی طرف پکڑ کرے اور متاثر کرے وہ سحر ہے۔
(مختا رالصحاح ص 409 دار الاشاعت اردو بازارکراچی۔)حاشیہ تفسیر جلالین ص 16۔
(یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحْرَ ) (2/102)
3۔۔۔۔۔۔
فَاِنْ کَانَ سِحْرًا فَاعْذِرِیْنِیْ عَلَی الْھَوٰی وَاِنْ کَانَ دَاءً غَیْرَہ، فَلَکِ الْعُذْر،
ترجمہ:
اگر جادو ہے تو توُمجھے محبت پر مجبورسمجھ اور اگر اس کے علاوہ کو ئی اور بیماری ہے تو تیرے لئے عذر ہے ۔
مطلب:
شاعر قسم کھاکر اپنی محبوبہ کو سابقہ بات کا یقین دلارہاہے اور اس کی دو وجہیں بیان کررہا ہے ۔یاتوآپ نے جادو کر کے مجھے اپنی محبت میں قید کرلیاہے اس صورت میں تو میں بے قصور ومجبورہوں لیکن اگر تونے کو ئی جادو وغیرہ نہیں کیا بلکہ میں تیرے عشق کامریض ہوچکا ہوں تو پھر تیراکو ئی قصورنہیں لیکن میں پھر بھی مجبور ہوں۔
اِعْذِرِیْ:عَذَرَ(ض)عُذْرًا فلانًا فی مَا صَنَعَ عُذْرًا:
کسی کو اس کے فعل پر ملامت نہ کرنا اور اسے معذور سمجھنا،بری ا لذمہ قرار دینا ،عذرقبول کرنا،معاف کرنا۔
(لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمَانِکُمْ ) (9/66)