Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
57 - 324
ابن کثیرنے امام رازی سے ان کاقول نقل کیا:کہ جان لوکہ مخلوق دوطرح کی ہوتی ہے ایک وہ جو معرفت کے ساحل سے ملے ہوئے ہیں دوسرے وہ جو پریشانی وترددکے اندھیروں اورجہالت کی وادی میں پڑے ہوئے ہیں ،گویاانہوں نے اپنی عقلوں اورروحوں کوگم کردیاہے۔اوروہ جوپانے والے ہیں انہوں نے نورکے میدان اورجلال وکبریاء کی وسعتوں سے اپناتعلق قائم کرلیاہے تو صمدیت کے میدانوں میں پریشان پھرتے ہیں اوریکتائی میں فناہوگئے،توثابت ہواکہ تمام مخلوق اس کی معرفت میں حیران وششدرہے۔اور کہاگیاہے کہ یہ ''لاھ یلوھ ''بمعنی احتجب،یا ''ألہ''بمعنی أولع یا''الولہُ''یعنی محبت شدیدہ سے مشتق ہے، توبندے اس سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس کے ذکر میں مگن اور مست ہوجاتے ہیں ۔یایہ''تألھت''بمعنی تضرعت سے مشتق ہے تو''اَلْاِلٰہ''وہ ہے جس کے سامنے بندہ انکساری کرتاہے۔اورکہاگیاہے :یہ ''ألہ الی فلان'' بمعنی
فزع الیہ من امر نزل بہ فآلھہ أی أجارہ
''سے مشتق ہے تومخلوق مصیبتوں کے وقت اس کی پناہ لیتی ہے اور وہ انہیں ہر نقصان دہ چیز سے پناہ دیتاہے ،
 (وَھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ)(23/88)
اوروہ ان پرکثیر نعمتوں کے ساتھ انعام فرمانے والا ہے اوران نعمتوں میں سب سے زیادہ نمایاں وجود کی نعمت ہے
 (وَمَا بِکُم مِّن نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّہِ) (16/53)
اوران نعمتوں میں کھانے کی نعمت بھی ہے
 (وَھُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ) (6/14)
جمہور کانظریہ:
     امام رازی ،خلیل ،سیبویہ ،اور اکثر اصولیین اورفقہاء کامختارنیز مجدد اعظم الشاہ الامام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کا پسندیدہ قول یہ ہے کہ اسم جلالت مشتق نہیں ہے بلکہ وہ ذات باری تعالی کاابتداء ً بغیرکسی صفت کا اعتبار کئے علَم ہے اور اس میں مذکورہ معانی میں سے کسی معنی کا اعتبار نہیں ہے۔

    اور جمہور کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اگر یہ مشتق ہوتاتو اس کے معنی میں اشتراک ہوتا ۔ بعض عارفین نے فرمایا کہ یہ علی الاطلاق ذات الٰہی عزوجل (اس حیثیت سے کہ وہ ذات الہی ہے)کااسم ہے نہ کہ ذات الٰہی عزوجل کے صفات کے ساتھ متصف ہونے کے اعتبارسے (اسم ہے)۔اور''الف لام''اس میں لازمی ہے اگریہ اصل کلمہ سے نہ ہوتا تو ''الف لام''پر حرف ندا داخل کرنا جائز نہ ہوتاجیسے آپ کہتے ہیں:''یااﷲ'' لیکن یا الرحمن نہیں کہتے اور ''الف لام ''کااصل میں تعریف کے لئے ہونااور اس اسم سے''الف لام''کا ساقط نہ ہونااس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یہ ہمیشہ''معرفہ''ہی رہے گا اوریہ اس بات پر دلالت کرتاہے کہ اس کے کرم کے ثمرات کسی وقت بھی بندے سے جدانہیں ہوتے ۔ اورسیبویہ نے اس کے اشتقاق کاقول کیاہے اس طرح کہ کلمہ جلالت کی اصللاہہے پھر ''الف لام''تعظیم کے لئے داخل کیاگیااہل عربیہ میں سےکَتَّاب نے کہا:جب بسم اﷲکہاجائے توپھر ''الف''کے ساتھ اس کالکھنا متعین ہوگااور''الف ''اسی وقت حذف ہوگا جب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
پورا لکھاجائے۔
 (عَوْنُ المُرِیدِ لشرح جوھرۃ
Flag Counter