(فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ )۔(2/152)
(شرح مرزوقی ج1ص 45 بیروت)
:ہلنا ،جھومنا،ڈانواڈول ہونا۔خَطْرًا:ہاتھوں کو ہلا کر چلنا ۔
پہلی بارہونا،پہلی بارپانی پینا۔الشاربُ:سیر ہو کرپینا۔''مِنَّا''بیروت کے نسخہ میں''مِنِّیْ''ہے۔المثقفۃ:مفع، (تفعیل)ثَقَّفَ الشیئَ:نیزہ یا کسی چیز کے ٹیڑھے پن کو دور کرنا۔ السُمْرُ:مف:اَلأَسْمَرُ:گندمی رنگ کا،سانولے رنگ کا،نیزہ،ہرنی کادودھ۔
2۔۔۔۔۔۔
فَوَاﷲِ مَا اَدْرِیْ وَاِنِّیْ لَصَادِقٌ اَدَاءٌ عَرَانِیْ مِنْ حِبَابِکِ اَمْ سِحْر،
ترجمہ:
اﷲ کی قسم مجھے معلوم نہیں اور بے شک میں سچ بول رہاہوں کہ تیری سخت محبت کی بیماری مجھے لاحق ہوئی ہے یاجادو ہے۔
حل لغات:
اﷲ:(اسم جلالت)کی تحقیق:
لفظ جلالت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے :کہ آیایہ اسم مشتق ہے یانہیں۔ امام رازی نے فرمایا:کثیرعلماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ ''الاِلٰہ''بمعنی عبادت سے مشتق ہے تو یہ اس بات پر دلالت کریگاکہ اﷲتبارک وتعالی کمال عظمت اورجلالت سے متصف ہونے کی وجہ سے عبادت کامستحق ہے ۔
اورقرطبی نے نقل کیاکہ یہ ''ولہ'' بمعنی تحیرسے مشتق ہے ۔ولہٌ کی واؤ کوہمزہ سے بدلاپھریہ چونکہ ایسااسم ہے جو اس ذات کی عظمت بیان کرتاہے کہ جس کی مثل کوئی شے نہیں
(لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ)(42/11)
اس لئے ''الف لام ''داخل کرکے اس کی قدرومنزلت کوظاہر کیاگیا،تولوگ اﷲتعالی کی صفات اور اس کی عظمت کے حقائق کے بارے میں غوروفکر کرنے میں حیران ہیں۔
رازی نے فرمایا:کہاگیاہے کہ یہ الھت الی فلان بمعنی سکنت الیہ سے مشتق ہے ؛ کیونکہ عقول اسی کے ذکر ہی سے راحت محسوس کرتی ہیں اور ارواح اسی کی معرفت ہی سے خوش ہوتی ہیں ؛کیونکہ وہی علی الاطلاق کامل ہے ،حق ہے ،الوہیت کی صفات کاجامع ہے، ربوبیت کی صفت سے متصف ہے اور واجب الوجود ہونے میں متفردہے ۔اسی طرح